بلوچستان میں پائیدار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے جاری اسٹریٹجک منصوبے تیزی سے تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور مختلف شعبہ جات میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس امر کا اظہار چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پیپلز ٹرین سروس کے منصوبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اس کی بوگیاں مکمل طور پر تیار کر لی گئی ہیں جبکہ 14 اگست کو ٹرین آپریشن کے باقاعدہ آغاز کی توقع ہے، جو عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے جہاں بلوچستان بھر میں 2100 نئے کمیونٹی اسکول قائم کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 1 لاکھ 36 ہزار سے زائد آؤٹ آف اسکول بچوں کو دوبارہ تعلیمی دھارے میں شامل کیا گیا ہے۔
صحت کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ روٹین ایمونائزیشن پروگرام میں بلوچستان نے دیگر صوبوں پر سبقت حاصل کر لی ہے اور 94 فیصد اہداف کامیابی سے حاصل کیے جا چکے ہیں، جو ایک اہم اعزاز ہے اجلاس میں توانائی کے شعبے میں بھی اہم اقدامات زیر غور آئے، خاص طور پر دور دراز اضلاع میں سستی بجلی کی فراہمی کے لیے آف گرڈ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں نجی شعبے کو شراکت داری کے لیے مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے ذریعے 50 فیصد تک کم لاگت بجلی کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے گا۔
منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے مختلف تجاویز بھی طلب کر لی گئی ہیں امن و امان اور شہری سہولیات کی بہتری کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے 8 اہم شہروں کو 30 جون تک سیف سٹی قرار دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے شہری سکیورٹی کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے کی 900 یونین کونسلز میں 1255 فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کا منصوبہ جاری ہے، جس کی رفتار کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
نوجوانوں کی ترقی کے حوالے سے چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مزید 620 امیدواروں کا انتخاب مکمل کر لیا گیا ہے اور انہیں ورک ویزوں کا اجرا بھی کیا جا چکا ہے، جو نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم قدم ہے آبپاشی کے شعبے میں بھی مثبت پیش رفت جاری ہے، جہاں پانچ ڈیمز پر کام تیزی سے جاری ہے اور ان منصوبوں کی تکمیل سے 42 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی سیراب ہونے کی توقع ہے، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ توانائی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں جاری اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جبکہ بین الادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر اور تیز بنایا جا رہا ہے۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقررہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔