آپریشن بنیانِ مرصوص محض ایک فوجی کارروائی کا نام نہیں بلکہ یہ حق و باطل کے درمیان ایک ایسا فیصلہ کن معرکہ اور قومی یکجہتی کا وہ عظیم الشان باب ہے جس نے دشمن کے تکبر کو پیوندِ خاک کر دیا۔ معرکہِ حق کا ایک برس مکمل ہونے پر اپنے خصوصی پیغام میں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ ہماری بہادر مسلح افواج نے جس پیشہ ورانہ مہارت اور جانثاری کے ساتھ دشمن کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنایا، اس نے نہ صرف وطنِ عزیز کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا بلکہ دشمن کے دانت بھی کھٹے کر دیے۔
ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معرکہ ہماری قومی غیرت اور دفاعی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس کی بدولت آج پاکستان کا سر فخر سے بلند ہے۔ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے واضح کیا کہ بھارت نے جس غرور کے ساتھ اپنے رافیل طیاروں کا چرچا کیا تھا، ان طیاروں کی تباہی نے اسے پوری دنیا کے سامنے رسوا اور شرمسار کر دیا۔ مودی حکومت کو یہ گمان تھا کہ وہ اپنی عددی برتری اور جدید ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر پاکستان کو دباؤ میں لے آئے گی، لیکن اسے ہر محاذ پر شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو صرف عسکری میدان میں ہی نہیں بلکہ سائبر اور سفارتی محاذوں پر بھی بدترین ناکامی ہوئی اور عالمی سطح پر اس کا جھوٹا بیانیہ ریت کی دیوار ثابت ہوا۔
یہ معرکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگیں صرف آلاتِ حرب سے نہیں بلکہ ایمان کی قوت اور بلند حوصلوں سے جیتی جاتی ہیں۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے قومی یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ معرکہِ حق نے یہ عظیم سبق دیا ہے کہ جب قوم، حکومت اور مسلح افواج ایک ہی پیج پر ہوں اور متحد ہو کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اس فتح میں جتنا کردار ہماری افواج کا ہے، اتنا ہی سہرا اس قوم کے سر بھی ہے جس نے اپنے محافظوں کی پشت پناہی کی۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے معرکہِ حق کا ایک برس مکمل ہونے پر ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے عظیم شہدا کی لازوال قربانیوں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا اور غازیوں کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے ان سپوتوں کی ہمیشہ احسان مند رہے گی جنہوں نے لہو دے کر آزادی کے چراغ روشن رکھے۔