بدعنوانی کے خلاف جاری آگاہی مہم کے سلسلے میں ، نیب بلوچستان نے جنرل محمد موسی گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجوایٹ کالج کوئٹہ میں "نیب کے کام کا طریقہ کار اور بدعنوانی کے خاتمے میں طلباء کے کردار” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار کا بنیادی مقصد نوجوان طلباء کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور بدعنوانی سے پاک معاشرے کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا تھا۔ نیب بلوچستان کے افسران کے ایک وفد نے ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب بلوچستان احتشام الحق کی قیادت میں طلباء اور فیکلٹی ممبرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نیب کے وژن، مشن اور بدعنوانی کی لعنت کے خاتمے میں طلباء کے اہم کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ اس پروگرام میں ڈائریکٹر کالجز بلوچستان حسین بلوچ نے بھی شرکت کی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نیب خرم شہزاد نے طلباء سے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ نوجوان طلباء معاشرے میں تبدیلی کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں ۔ انہوں نے طلباء کو تلقین کی کہ وہ اپنی زندگیوں میں دیانتداری اور احتساب کو بنیاد بنائیں اور بدعنوانی سے نفرت کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود احتسابی اور دیانت داری اسلام کے بنیادی اصول ہیں، اور بدعنوانی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔ اقربا پروری، رشوت، سفارش، زور زبردستی اور جانبداری کو کرپشن کی اقسام کے طور پر گرداناگیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ رویے ہمارے معاشرے میں معمول بن چکے ہیں۔ اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ طلباء بدعنوانی کے خلاف شعور حاصل کر یں تا کہ ایمانداری، دیانتداری اور جوابدہی کے درس کومزید فروغ دیا جا سکے ۔ معاشرے کے اہم ارکان کے طور پر طلباء کی اجتماعی کوششیں بدعنوانی سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب نے طلباء کی جانب سے کرپشن سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے۔
پروگرام کے دوران ڈائریکٹر کالجز حسین بلوچ اور پرنسپل منظور حسین نے نیب بلوچستان کی کاوشوں کو سراہا اور آئندہ بھی انسداد بدعنوانی کی مہم میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ سیمینار کےاختتام پر نیب کی جانب سے پرنسپل کو یادگاری شیلڈ دی گئی ۔ بعدازاں کالج میں ایک کرپشن کے خلاف ایک آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا جس میں نیب افسران، ڈائریکٹر کالجز ، پرنسپل ، پروفیسرز اور طلباء نے شرکت کی۔