کوئٹہ:چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (بیف) خالد ماندائی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے کے ہونہار طلبہ کو ملک کے بہترین تعلیمی اداروں تک رسائی دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسی سلسلے میں “آؤٹ آف پروونس اسکالرشپ اسکیم 2025-26” متعارف کرائی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت بی ایس/پروفیشنل (4 اور 5 سالہ)، ماسٹرز (2 سالہ) اور ایم ایس/ایم فل پروگرامز میں زیر تعلیم طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔
بی ایس پروگرام کے پہلے سال کے لیے ایف اے/ایف ایس سی کے سالانہ نتائج (2023 تا 2025) جبکہ بالائی سمسٹرز کے لیے متعلقہ سمسٹرز کے سی جی پی اے کو بنیاد بنایا جائے گا خالد ماندائی کے مطابق ماسٹرز پروگرام میں پارٹ ون کے طلبہ کے لیے پہلے سمسٹر جبکہ پارٹ ٹو کے لیے پہلے دو سمسٹرز کے نتائج لازمی ہوں گے، اسی طرح ایم ایس/ایم فل پروگرام میں کورس ورک اور ریسرچ ورک کے طلبہ کے لیے بھی متعلقہ سمسٹرز کے نتائج درکار ہوں گے انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے لیے اہل ہونے کے لیے امیدوار کا بلوچستان کا ڈومیسائل ہونا، کسی پبلک سیکٹر یا بی ای ای ایف کے منظور شدہ نجی ادارے میں زیر تعلیم ہونا (جو بلوچستان سے باہر واقع ہو) اور کم از کم 60 فیصد نمبر یا 3.0 جی پی اے/سی جی پی اے حاصل کرنا ضروری ہے درخواست دہندہ کا نام متعلقہ ادارے کی میرٹ لسٹ میں شامل ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سی ای او بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ نے واضح کیا کہ دیگر اسکالرشپس سے مستفید ہونے والے طلبہ اس اسکیم کے لیے اہل نہیں ہوں گے جبکہ بی ایس 2 سالہ، بریجنگ یا لیٹرل انٹری پروگرامز کے طلبہ بھی اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے انہوں نے کہا کہ امیدواروں کو تعلیمی اسناد، ڈومیسائل، شناختی دستاویزات اور حالیہ تصاویر سمیت تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کروانا ہوں گی اور درخواستیں براہ راست "بیف” کو بھیجنے کے بجائے متعلقہ اداروں کے ذریعے جمع کروائی جائیں گی خالد ماندائی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات جاری ہیں تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور روشن مستقبل کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔