وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں جنہوں نے ہمیشہ امت کو مضبوطی سے جوڑے رکھا حکومت چاہتی ہے کہ دینی مدراس کے معاملے پر جمعیت کے تحفظات کا خاتمہ کرے تاہم اس پورے معاملے میں جمعیت علماءاسلام حکومتی موقف سمجھنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعلی بلوچستان کی قیادت میں اپوزیشن سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کا اعتماد حاصل کرنا ہماری ترجیحات ہیں گزشتہ روز صوبائی وزیر داخلہ میرضیاءاللہ لانگو کی قیادت میں حکومتی وفد بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعت جمعیت علماءاسلام سے مزاکرات کے لئے پہنچا وفد میں صوبائی وزیر حاجی میرعلی مددجتک ،پارلیمانی سیکرٹری حاجی میر برکت رند شامل تھے جبکہ جمعیت علماءاسلام کی جانب سے صوبائی امیر سینیٹر مولاناعبدالواسع، بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری ،پبلک آکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین اصغرترین ،رکن صوبائی اسمبلی سید ظفر آغا،رکن قومی اسمبلی میر عثمان بادینی ،سینیٹر کامران مرتضی ،سینیٹر عبدالشکور ،صوبائی جنرل سیکرٹری سید محمود شاہ آغا سمیت دیگرمرکزی اور صوبائی رہنماءبھی موجود تھے ملاقات کے دوران مدراس رجسٹریشن سمیت سیاسی امور پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن کا آئندہ بھی بات چیت جاری رکھنے اور باہمی مشارورت معاملات حل کرنے پر اتفاق ہوا اس موقع پر صوبائی وزراءکا کہناتھا کہ مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں،جہاں سے علماءاور حفاظ فارغ التحصیل ہوتے ہیں تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو دینی مدارس نے ہمیشہ مسلم امہ کو جوڑے رکھاہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان تمام اقوام اورمذاہب کا گلدستہ ہے۔
حکومت چاہتی ہے مدراس رجسٹریشن کے معاملے کو باہمی اتفاق اور خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچاے انہوں نے کہا کہ سینیٹر مولانا عبدالواسع ایک زیرک اور قابل احترام سیاستدان ہیںجنہوں نے ہمیشہ صوبے اور یہاں کے عوام کی مفاد کے لئے مثبت طرز سیاست کو فروغ دیا ہماری خواہش ہے کہ جمعیت علماءاسلام مدارس کے معاملے پر حکومتی موقف کو سمجھیں انہوں نے کہاکہ وزیراعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی قیادت میں حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کو ترجیح دی ہے،آج بھی اپوزیشن کے پاس حکومتی نمائندوں کا آنا حکومتی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔