گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اگر ہم پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی حقیقی ترقی اور تعلیمی معیار کی بلندی کیلئے شعوری کوششیں کر رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے بجٹ میں بیتحاشہ اضافہ کیا ہے اور بڑے مسائل عملی طور پر حل کر کے ثابت کیا تو اس ضمن میں ہم تمام وائس چانسلرز سے اب فوری ٹھوس نتائج اور اعلیٰ کارکردگی کی توقع بھی رکھتے ہیں۔
یونیورسٹی سینیٹ کے اجلاسوں میں کیے گئے تمام فیصلوں پر فوری طور پر عملدرآمد اور کے ٹھوس نتائج اگلے اجلاس سے پہلے سامنے لانے پڑیں گے۔ اب ہماری توجہ جوابدہی اور ٹھوس پیشرفت پر ہے، اس بات کو یقینی بنانا کہ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ کوالٹی ایجوکیشن اور خدمات کی فراہمی سے مشروط کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار نے بیوٹمز یونیورسٹی کے 14 ویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس نجم الدین مینگل، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ،، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنربلوچستان عبدالناصر دوتانی، پرووائس چانسلر بیوٹمز ڈاکٹر میروائس کاسی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نمایندہ ڈاکٹر ظہور بازئی سمیت تمام سینیٹ کے ممبران موجود تھے. بیوٹمز یونیورسٹی کے سینیٹ ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ زیر تعلیم اسٹوڈنٹس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کریں.
ژوب کیمپس اور مسلم باغ کیمپس کی کارکردگی میں بہتری لائق تحسین ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی کیمپسز میں نئی تعیناتیوں کے دوران میرٹ کی پاسداری یقینی بنانا ضروری ہے. بیوٹمز یونیورسٹی کے چودھویں ویں اجلاس کے شرکاء کی سفارشات اور تجاویز کی روشنی میں کئی نئے اہم فیصلے کیے گئے۔