کوئٹہ کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تاریخی مندی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران شہر بھر میں کمرشل اور رہائشی پراپرٹی کی قیمتوں میں 20 سے 50 فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ خریداروں کی عدم دستیابی کے باعث پراپرٹی کا کاروبار عملی طور پر جمود کا شکار ہو چکا ہے۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، کوئٹہ کے مین علاقے لیاقت بازار جیسے پوش اور مہنگے علاقوں میں کمرشل پلاٹس کی فی مربع فٹ قیمت 10 لاکھ روپے سے گر کر 7 سے 8 لاکھ روپے تک آ گئی ہے۔ اسی طرح، شہر کے نواحی علاقوں میں رہائشی پلاٹس کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے، جس سے مالکان کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
رئیل اسٹیٹ ماہرین اس بحران کی بنیادی وجوہات میں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد میں واپسی، شہریوں کا اپنی سرمایہ کاری کو پراپرٹی سے ہٹا کر ، کرنسی ایکسچینج ، سونے کی خریداری میں منتقل کرنا، ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ اور تحصیل دفاتر میں مبینہ بدعنوانی کو قرار دے رہے ہیں۔
پراپرٹی کی قیمتوں میں اس بھاری کمی نے ڈیلرز اور مالکان میں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے