پورے خطے کی کشیدگی صورتحال کے پیش نظر تمام سیاسی اکابرین اور منتخب عوامی نمائندوں پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ ان پیچیدہ حالات میں سنجیدہ و دلیرانہ فیصلے کریں۔ سیاست محاذآرائی نہیں بلکہ زندگی کے نشیب و فراز میں بامقصد ڈائیلاگ اور عوام دوستی کا نام ہے جس میں ذاتی رنجش یا مخالفت کو ذاتی دشمنی میں بدلنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ میں نے شروع سے ہی ایسی سیاست کی ہے جو برائی کا بدلہ اچھائی سے اور انتقام کا بدلہ معافی سے دینے کا عکاس ہے۔ تمام پشتون بلوچ سیاسی شخصیات، خانون، نوابوں، سرداروں اور مذہبی و قبائلی عمائدین سے بلاتفریق باہمی احترام اور عزت افزائی کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتا ہوں
کوئٹہ29 اپریل: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پورے خطے کی کشیدگی صورتحال کے پیش نظر اور ملک و صوبے کو سیاسی اور معاشی استحکام کی جانب لے جانے کے حوالے سے منتخب عوامی نمائندوں اور سیاسی اکابرین پر بڑی اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ ان پیچیدہ حالات میں سنجیدہ اور دلیرانہ فیصلے کریں۔ میں نے اپنے سیاسی اکابرین سے یہی سیکھا ہے کہ سیاست محاذآرائی نہیں بلکہ زندگی کے نشیب و فراز میں بامقصد ڈائیلاگ اور عوام دوستی کا نام ہے جس میں ذاتی رنجش یا مخالفت کو ذاتی دشمنی میں بدلنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ میں نے شروع سے ہی ایسی سیاست کی ہے جو برائی کا بدلہ اچھائی سے اور انتقام کا بدلہ معافی سے دینے کا عکاس ہے۔ پشتون بلوچ سیاسی شخصیات، خانون، نوابوں، سرداروں اور مذہبی و قبائلی عمائدین سے بلاتفریق باہمی احترام اور عزت افزائی کی بنیاد پر قریبی دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء اور پارلیمانی سیکرٹری پرنس عمر احمدزئی سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات کے دوران حاجی محمد خان لہڑی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں ایک سادہ اصول پر عمل کیا ہے جو مختلف اقوام و قبائل کے درمیان محبت بانٹتا ہے، محروم لوگوں کے مقصد کو آگے بڑھاتا ہے، منشیر لوگوں کو متحد کرتا ہے اور جہاں اندھیرا ہے وہاں روشنی لانا ہے۔ یہ عملی زندگی میں نظریہ اور عمل کو یکجا کرنے کا بہترین تصور ہے. سیاسی اتار چڑھاؤ کے دوران بھی، میں نے قومی اور صوبائی دونوں سطحوں پر سیاسی رہنماؤں، علماء اور قبائلی عمائدین کے ساتھ مضبوط اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات استوار کیے ہیں کیونکہ سیاست کا جوہر جمہوریت ہے اور جمہوریت کو رویوں میں جھلکنا ضروری ہے۔
حتیٰ الامکان سیاست اور مختلف وزارتوں میں عوام کے بنیادی حقوق، اختیارات اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کو ترجیح ہے۔ تعلیم ، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بعض ایسے ترقیاتی منصوبے پورے کیے ہیں جن پر آنے والی نسلیں بھی فخر کریگی کیونکہ میں ذاتی فائدے کیلئے نہیں بلکہ عوامی بھلائی کیلئے جدوجہد کرنے کے قائل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی عوام دوستی ہی سماجی انصاف، معاشی مساوات اور مذہبی رواداری کیلئے نئی راہیں ہموار کرتی ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ میں نے علاقائی اور قبائلی سطحوں پر بھی کبھی انتقام لینے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ذاتی رنجشیں رکھی ہیں۔الحمدللہ میری سیاست، میرا کام اور میرے تعلقات میرے مثبت اور تعمیری کردار کا ثبوت ہیں۔