
7
سالہ
،میت اصل جگہ پر نہیںکفن کا حصہ غائب،پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان،قبر کشائی میں انکشافقبر و میت سے چھیڑ چھاڑ کا معاملہ،عدالت کے حکم پر ڈاکٹرز کا بورڈ میڈیکل کر رہا ہے
راولپنڈی (عبدالرحمان سے)تھانہ دھمیال کی حدود میں 7 سالہ بچی کی قبر سے مبینہ چھیڑ چھاڑ کے واقعے میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ خان کالونی قبرستان میں عدالت کے حکم پر مجسٹریٹ کی موجودگی میں کی جانے والی قبر کشائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بچی کی میت اپنی اصل جگہ پر موجود نہیں بلکہ ہلی ہوئی ہے۔ بچی کے والد ظفر اقبال کے مطابق ان کی بیٹی علینہ 26 اگست کو فوت ہوئی جسے خان کالونی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔ اگلی صبح جب وہ فاتحہ کے لئے قبرستان پہنچے تو دیکھا کہ قبر کھدی ہوئی ہے اور بچی کا کفن قریبی حویلی میں پڑا ہے۔ اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی مگر مقامی افراد کے مطابق پولیس نے موقع پر بروقت اور مؤثر کارروائی نہیں کی۔ قبر کشائی کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ کفن کا سر والا حصہ تو موجود ہے لیکن نچلے دھڑ کا کفن موجود نہیں۔ مزید برآں، میت کی پوزیشن بھی اپنی اصل حالت میں نہیں رہی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ قبر اور میت دونوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ ڈاکٹرز کے بورڈ نے میت کا میڈیکل معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ قانونی اور طبی پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔ واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے جبکہ شہریوں کی جانب سے پولیس کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے ابتدائی طور پر سخت پہرہ اور نگرانی کی ہوتی تو یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش نہ آتا۔ اہل علاقہ اور متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی غفلت اور تاخیر پر نوٹس لیا جائے اور ملوث عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔