وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ورلڈ ویٹرنری ڈے کے موقع پر ویٹرنری ماہرین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویٹرنری شعبہ انسانی و حیوانی صحت کے باہمی ربط کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحتِ عامہ کے فروغ اور محفوظ غذائی نظام کے قیام میں ویٹرنری ماہرین کی خدمات نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں اینیمل ہیلتھ کے شعبے کو مضبوط بنا کر ویکسین کی مقامی تیاری کی جانب پیش رفت جاری ہے، جس سے نہ صرف بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ خود انحصاری کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لائیواسٹاک سیکٹر کی بہتری اور پیداوار میں اضافے کے لیے جدید اصلاحی پالیسیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں انہوں نے موسمیاتی تغیرات کے تناظر میں مویشیوں کی مقامی نسلوں کے تحفظ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے لائیواسٹاک فارمز کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے جبکہ زرعی پالیسی کے تحت لائیواسٹاک کی ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گوشت اور دودھ کی معیاری پیداوار کے لیے ویٹرنری لیبارٹریز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس جیسے چیلنج سے نمٹنے میں ویٹرنری ماہرین کا کردار انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیری سیکٹر میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حکومتی سطح پر عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مویشی پال حضرات کو گھر کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے کے لیے موبائل ویٹرنری سروسز کو وسعت دی جا رہی ہے جبکہ زونوٹک بیماریوں کی نگرانی اور بروقت تشخیص کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں مال مویشیوں کی مقامی نسلوں کا جینیاتی تحفظ صوبے کی معیشت اور ثقافت کے لیے نہایت اہم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔