تہران۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران پراچانک حملہ کر دیاہے، آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب ابتدائی حملہ کیا گیا، صدارتی دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تہران سمیت کئی شہروں میں 30 مقامات پر میزائل داغ دیئے۔
قطری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکا بھی اس حملے میں شریک ہے، امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا ہے، ایران پر حملے مشترکہ فوجی آپریشن کا حصہ ہیں، اسرائیلی حکام کے مطابق آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنا لیا تھا۔فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع ملی ہے،
تہران یونیورسٹی کی شاہراہ اور جمہوری علاقے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا گیا ہے، ایرانی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں، عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے مرکزی دفتر کو نشانہ بنایا گیا، صدارتی دفتر پر بھی حملہ ہوا، تہران کے بعد اصفہان، قم، کرج اور کرمان شاہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران میں فون اور انٹر نیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، سٹاک مارکیٹ بھی کریش کر گئی ہے، ٹریڈنگ معطل ہو گئی، شہری تہران چھوڑ کر جانے لگے، پٹرول پمپوں پر رش لگ گیا ہے۔ایرانی ریاستی میڈیا نے دھماکوں کی اطلاع کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے، تہران کے مضافات اور کئی مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں، افراتفری کی صورتِ حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں واضح اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد اسرائیلی میزائل یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا پر گرے ہیں، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے مضافات اور کئی مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں، افراتفری کی صورتِ حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای تہران میں موجود نہیں ہیں، انہیں محفوظ جگہ منتقل کردیا گیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران پر پیشگی حملے شروع کر دیے گئے ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع نے بھی اس حوالے سے تصدیق کی ہے۔اسرائیلی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکا کے ساتھ مل کر اسرائیلی آپریشن جاری ہے، ایران پر آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنایا گیا تھا، ایران پر حملے کی تاریخ کا فیصلہ ہفتوں پہلے کیا گیا تھا۔اس حوالے سے امریکی عہدیدار کا بھی یہی مؤقف سامنے آیا ہے جس کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے، ایران پر امریکی حملے فضا اور سمندر سے جاری ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں کے بعد ایران نے فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے اور ایران کا ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔
ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ان حملوں کے بعد عراق نے بھی فضائی حدود بند کردی ہے۔ایران پر حملے کے فوری بعد مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے۔اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کرنے کے بعد اسرائیل بھر میں اسکول بند کر دیے گئے۔
اسرائیلی حکام نے اسرائیلی فضائی حدود کو بھی بند کر دیا ہے اور اسرائیلی شہریوں کو ایئر پورٹ کی جانب نہ آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
