اسلام آباد (الفجرآن لائن): وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورننس کے چیلنجز سے نمٹنے، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے اور سرکاری خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے مزید انتظامی اکائیوں، مؤثر بلدیاتی نظام اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔
صنوبر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پاکستان کی انتظامی تنظیمِ نو اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع جغرافیائی رقبے کے باعث صوبے کے تمام علاقوں کو ایک ہی انتظامی مرکز سے مؤثر طور پر چلانا بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انتظامی ڈھانچے، موجودہ گورننس ماڈلز اور نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر سنجیدہ قومی مکالمے کو پارلیمنٹ تک پہنچایا جائے اور سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان میں انتظامی نظام کی تشکیلِ نو سے متعلق جاری بحث ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ موجودہ انتظامی تقسیم عوام کو خدمات کی فراہمی میں کس حد تک مؤثر ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کی جغرافیائی وسعت دیگر صوبوں سے مختلف ہے، جہاں بعض علاقوں تک پہنچنے کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے انتظامی امور اور ہنگامی حالات میں بروقت ردعمل متاثر ہو سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے خضدار کے دور دراز علاقے سارونہ کے قریب پیش آنے والے خودکش حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو ضلعی ہیڈکوارٹر سے جائے وقوعہ تک پہنچنے میں تقریباً نو گھنٹے درکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مثال سے بلوچستان میں انتظامی فاصلے کم کرنے اور مقامی سطح پر سرکاری اداروں کی استعداد بڑھانے کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے انتظامی بہتری کے لیے ڈویژنز کی تعداد آٹھ سے بڑھا کر بارہ، جبکہ اضلاع کی تعداد تقریباً 36 سے بڑھا کر 41 کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بڑے اضلاع کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنا، انتظامی امور کو آسان بنانا اور شہریوں کو سرکاری خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ بڑے آئینی اور انتظامی فیصلوں کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔
وسائل کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت آبادی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، لیکن وسائل کی تقسیم میں جغرافیائی وسعت، انتظامی ضروریات اور عوام تک خدمات پہنچانے کے اخراجات کو بھی مناسب طور پر مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق بلوچستان کی ضروریات کو قومی پالیسی سازی میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل کرنا ضروری ہے۔
بلدیاتی نظام کے حوالے سے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے سے عوام کے روزمرہ مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے منتخب نمائندے قانون سازی اور وسیع تر پالیسی معاملات پر توجہ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی موجودہ مدت 8 فروری کو مکمل ہو رہی ہے اور صوبائی حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کر بلدیاتی انتخابات کے لیے تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کر چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں سیاست کا بڑا حصہ مقامی نوعیت کے ترقیاتی کاموں کے گرد گھومنے لگا ہے، جس سے قانون سازی اور پالیسی سازی جیسے بنیادی امور متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق مؤثر بلدیاتی نظام مقامی ترقیاتی ذمہ داریوں کو منتخب مقامی نمائندوں تک منتقل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
قومی سیاست میں بلوچستان کی نمائندگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی سیاسی جماعتوں کو صوبے کے مسائل، ترقیاتی ترجیحات اور جغرافیائی ضروریات کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، قومی ذرائع ابلاغ، اہلِ دانش، متعلقہ اداروں اور بیوروکریسی کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں مؤثر انتظامی تنظیمِ نو، مزید انتظامی اکائیوں کے قیام، مضبوط بلدیاتی نظام اور صوبے کی آبادی کے ساتھ اس کی جغرافیائی وسعت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وسائل کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

