صنعا (الفجر آن لائن) یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم عرب اتحاد نے کہا ہے کہ صبح حوثیوں کی جانب سے ریاض پر داغے گئے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ میزائل کو صبح چار بجے کے قریب تباہ کیا گیا، اس سے قبل رات سعودی دفاعی نظام نے جنوبی علاقے کی جانب بھیجے گئے دو ڈرونز کو تباہ کیا۔پچھلے کچھ روز کے دوران ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے کم از کم 14 بیلسٹک میزائل اور 60 سے زیادہ ڈرونز بھیجے۔ان حملوں میں ریاض، خمیس مشیط، نجران اور مشرقی صوبے کو نشانہ بنایا گیا۔ 15 اکتوبر کو مدینہ کے علاقے کی جانب داغا گیا ایک کروز میزائل بھی تباہ کردیا گیا تھا۔حوثی باغی سعودی عرب میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور دیگر شہری مقامات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق رواں ماہ ہونے والے ایسے حملوں میں 24 افراد ہلاک اور کم از کم 374 زخمی ہوئے۔ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 7 سے 11 اکتوبر کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 18 افراد ہلاک اور 333 سے زائد زخمی ہوئے۔10 اکتوبر کو ہونے والا حملہ سب سے زیادہ مہلک تھا۔ اس روز ایئرپورٹ کے ٹرمینل تین اور چار کے درمیان ایک بیلسٹک میزائل گرا، جس سے 13 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے۔فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا ملبہ گرنے سے بھی جانی و مالی نقصان ہوا۔اسی طرح ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دمام کے شاہ فہد ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں دو، دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ دونوں حملوں میں مجموعی طور پر 36 افراد زخمی ہوئے۔علاوہ ازیں سعودی آرامکو کی شیبہ آئل تنصیبات پر حملوں میں بھی دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے، جازان کے شاہ عبداللہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حملوں میں تین افراد زخمی ہوئے۔حوثیوں کی جانب سے تازہ میزائل حملہ عرب ممالک اور مسلم ورلڈ لیگ کی شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ پر حملوں کی شدید مذمت کے روز بعد کیا گیا ہے جن میں چار افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے تھے۔متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اردن اور مصر نے ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔بحرین نے حملے روکنے کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کشیدگی میں اضافہ خطے کے امن اور عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرات کا باعث ہے

