پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل نگرانی، مؤثر ویکسینیشن اور عوامی تعاون ناگزیر ہے، میر سرفراز بگٹی
کوئٹہ (الفجر آن لائن): وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بلوچستان میں نومبر 2024 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، جو ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل نگرانی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیو کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے سخت مانیٹرنگ اور مؤثر حکمتِ عملی کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ وائرس کی ممکنہ موجودگی کا بروقت پتا لگانے کے لیے ماحولیاتی نمونوں کی جانچ اور زیادہ خطرے والے علاقوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران حفاظتی قطرے لازمی پلوائیں، کیونکہ پولیو سے بچاؤ ممکن ہے اور ہر بچے کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ پولیو مہم کے دوران کسی بھی بچے کو حفاظتی قطروں سے محروم نہیں رہنا چاہیے، جبکہ وائرس کی کسی بھی ممکنہ موجودگی پر فوری کارروائی اور ویکسینیشن مہمات کے معیار کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دشوار گزار علاقوں میں ان کی محنت اور کوششیں بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے علمائے کرام، قبائلی عمائدین، اساتذہ اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے خلاف آگاہی پیدا کرنے اور ویکسینیشن کی اہمیت اجاگر کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
میر سرفراز بگٹی نے عزم ظاہر کیا کہ بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسینیشن، مؤثر نگرانی اور عوامی تعاون کی کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو پولیو سے محفوظ اور صحت مند مستقبل فراہم کرنا حکومت کا عزم ہے۔


