گہرام اور فہد نے سیکیورٹی فورسز کے سامنے سرنڈر کر دیا، بچوں کے والد کا والدین کو سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا مشورہ
پنجگور (الفجر آن لائن): پنجگور سے تعلق رکھنے والے دو کم عمر بھائیوں گہرام اور فہد نے دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ دونوں بھائیوں نے پنجگور پریس کلب میں اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے ذریعے رابطہ کرکے پیسوں کا لالچ دیا گیا اور تنظیم میں شمولیت کے لیے ورغلایا گیا۔
دونوں کم عمر بھائیوں کے مطابق، ریحان نامی ایک شخص نے ٹک ٹاک کے ذریعے ان سے رابطہ کیا اور مالی لالچ دے کر انہیں دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم تک پہنچنے کے بعد ان کی ملاقات مبینہ دہشت گرد سرغنوں بشام اور فاروق سے ہوئی، جہاں انہیں مزید ترغیب دی گئی۔
گہرام اور فہد نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں احساس ہوا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا غلط ہے، چنانچہ وہ وہاں سے فرار ہوگئے۔ ان کے مطابق، انہیں ذہن سازی کے ذریعے خودکش حملوں، گاڑیوں کی لوٹ مار اور بے گناہ افراد کے قتل جیسی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ تھا۔
بچوں کو مبینہ طور پر بلیک میل کرنے کا دعویٰ
دونوں بھائیوں نے مزید دعویٰ کیا کہ دہشت گرد عناصر بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کے بعد ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرتے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔
بچوں کے والد شہزاد نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھیں، ان کے آن لائن روابط سے باخبر رہیں اور انہیں اجنبی افراد کی جانب سے دیے جانے والے مالی لالچ اور مشکوک پیشکشوں کے بارے میں آگاہ کریں، تاکہ بچوں کو دہشت گرد عناصر کے جھانسے میں آنے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
واقعے سے متعلق فراہم کردہ معلومات کے مطابق، دونوں بھائیوں کی تنظیم سے علیحدگی اور سیکیورٹی فورسز کے سامنے سرنڈر کرنے کا معاملہ کم عمر بچوں کو آن لائن رابطوں کے ذریعے ورغلانے کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔

