یہ اقدام وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا ہے تاکہ سرکاری وسائل کے مؤثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری سروسز، ٹرانسپورٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ اس کے ارکان ہوں گے۔
کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام انتظامی محکموں، منسلک اداروں، خودمختار باڈیز اور ماتحت دفاتر میں زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کا مکمل آڈٹ کرے اور یہ جائزہ لے کہ گاڑیاں مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق استعمال ہو رہی ہیں یا نہیں۔
کمیٹی ایسے کیسز کی نشاندہی بھی کرے گی جہاں گاڑیاں مقررہ استحقاق سے زائد ہوں یا بغیر مجاز منظوری کے استعمال کی جا رہی ہوں۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کے غلط استعمال، غیر قانونی الاٹمنٹ اور غیر ضروری برقرار رکھنے جیسے معاملات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیٹی سرکاری گاڑیوں کے شفاف استعمال، مؤثر مینجمنٹ اور بہتر نگرانی کے لیے اصلاحی اقدامات اور سفارشات بھی پیش کرے گی، جبکہ اضافی گاڑیوں کی واپسی یا تلفی کے حوالے سے بھی تجاویز دے گی۔
کمیٹی بلوچستان سول کار رولز 1988 کا بھی جائزہ لے گی اور ضرورت پڑنے پر ان میں ترامیم تجویز کرے گی تاکہ نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
تمام سرکاری محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر گریڈ 19 کے ایک فوکل پرسن نامزد کریں جو کمیٹی کے ساتھ رابطہ رکھے اور مطلوبہ ریکارڈ، ڈیٹا اور معلومات فراہم کرے۔
کمیٹی 15 دن کے اندر اپنی جامع رپورٹ سفارشات کے ساتھ مجاز اتھارٹی کو پیش کرے گی۔
