منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کو جمہوری اقدار کے منافی قرار 11 اکتوبر سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، خیبرپختونخوا کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، خیبرپختونخوا کے بحران کے حل کے لیے سیاسی مکالمے اور دہشت گردی کے خلاف مشاورت سے حکمت عملی بنانے پر زور،متحدہ اپوزیشن کا اعلامیہ
اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ، منتخب صوبائی حکومت کے خاتمے اور سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے گورنر راج فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ، صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے احترام اور آئین و قانون کی بالادستی یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 11 اکتوبر کو سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتِ حال، صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ، منتخب حکومت کے خاتمے اور سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریوں سمیت اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں متحدہ اپوزیشن نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور منتخب صوبائی حکومت کے خاتمے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے منافی قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے قائدین اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں جمہوری اقدار کے خلاف ہیں، جبکہ گرفتار افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ متحدہ اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ فوری طور پر واپس لیا جائے اور صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ اعلامیے میں زور دیا گیا کہ آئین و قانون کی بالادستی برقرار رکھی جائے اور منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق سیاسی اختلافات اور مسائل کا حل آئینی تقاضوں اور جمہوری اصولوں کے مطابق نکالا جانا چاہیے۔ اعلامیے میں 11 اکتوبر کے واقعات اور صوبے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس دن کو سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ متحدہ اپوزیشن نے خبردار کیا کہ منتخب حکومت کے خاتمے اور سیاسی گرفتاریوں جیسے اقدامات سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے اور جمہوری نظام کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ خیبرپختونخوا پہلے ہی امن و امان کے سنگین مسائل سے دوچار ہے اور صوبے کو دہشت گردی سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ایسے حالات میں سیاسی محاذ آرائی اور غیرجمہوری اقدامات مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے عوام کو امن، تحفظ اور ان کے جمہوری حقوق فراہم کیے جائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکطرفہ فیصلوں کے بجائے تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے مؤثر حکمت عملی تشکیل دی جائے۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے شرکا کو آگاہ کیا۔ اعلامیے کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت مکمل ہونے کے باوجود غیرآئینی قدم اٹھایا گیا۔ اپوزیشن نے اس صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات کو مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، تاکہ ملک کو مزید سیاسی و آئینی بحران سے بچایا جاسکے۔ متحدہ اپوزیشن نے موجودہ سیاسی و آئینی بحران کے حل کے لیے سیاسی مکالمے اور باہمی مشاورت کو ضروری قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات کے باوجود آئین کی بالادستی اور جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اپوزیشن کے مطابق سیاسی مسائل کا پائیدار حل طاقت کے استعمال یا یکطرفہ اقدامات کے بجائے مذاکرات، آئینی طریقہ کار اور عوامی مینڈیٹ کے احترام میں مضمر ہے۔اعلامیے میں صوبائی خودمختاری اور خیبرپختونخوا کے عوام کے آئینی و مالی حقوق کے تحفظ کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ متحدہ اپوزیشن نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور منتخب نمائندوں کو آئین کے تحت حاصل اختیارات کا احترام یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات آئینی حدود، باہمی اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر استوار ہونے چاہییں۔متحدہ اپوزیشن نے واضح کیا کہ آئین کی بالادستی، جمہوری نظام کے تحفظ، صوبائی خودمختاری اور خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اعلامیے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ موجودہ صورتِ حال پر نظرثانی کرے، گورنر راج واپس لے، گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لائے۔اپوزیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بہتری اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ اعلامیے کے مطابق صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کا حل سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے مشاورت، مؤثر حکمت عملی اور جمہوری اصولوں کی پاسداری سے ممکن بنایا جاسکتا ہے

