آئین کے آرٹیکل 232کی توثیق،سینیٹ اور قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے قرارداد متفقہ طور پر منظور
اسلام آباد(الفجرآن لائن)سینیٹ اور قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 232کی توثیق کردی،خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی،قرارداد کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا۔
بدھ کو سینیٹ کا اجلاس چیرمین سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں شروع ہوا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے آئین کے آرٹیکل 232کے شق نمبر ایک کے تحت خیبر پختونخوا میں صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی دستاویز ایوان میں پیش کی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ ایک آئینی ذمہ داری ہے جس کو پورا کرنے کیلئے ایوان میں پیش کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جو قرارداد پیش کی گئی ہے یہ آئین کے تحت ضروری ہے اور جو قرارداد پرائیویٹ ممبران کی جانب سے لائی گئی ہے وہ پیش نہیں کی جاسکتی ہے۔
اس موقع پرسینیٹر ڈاکٹر ہمایون مہمند نے قرارداد پر بات کرتے ہوئے کہاکہ وزیر داخلہ نے ایوان میں ایک کہانی بیان کی تھی جو کہ غلط تھی اور انہوں نے کہاکہ ایوان میں غلط بیانی کی۔
انہوں نے کہاکہ بیرسٹر گوہر علی خان سے عمران خان نے پوچھا کہ تمھارے پاس فون ہے تو انہوں نے کہاکہ نہیں جس پر عمران خان نے کہاکہ اچھا تو پھر کل ریکارڈنگ کرا لیتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس حکومت پر کوئی اعتبار نہیں کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کے بلڈ پریشر کیلئے بیرون ملک سے ڈاکٹر کو بلایا گیا کیا اس ملک میں بلڈ پریشر کے علاج کا ڈاکٹر بھی نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ جنرل باجوہ سے مراد سعید نے تین سوال کئے تھے کہ 80ہزار شہادتیں والوں کو کیا جواب دیں گے اسی طرح اے این پی اور آرمی سکول کے شہدا کے والدین کو کیا جواب دیں گے۔
انہوں نے کہاکہ فیصل واوڈا جو بھی کہتے ہیں دھڑلے سے کہتے ہیں انہوں نے چھ ماہ قبل کہا تھا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج لگے گا اس کا مطلب ہے کہ دہشت گردی تو ایک بہانہ تھا صوبائی حکومت اس کا نشانہ تھا۔
انہوں نے کہاکہ قوم کے سامنے سچائی لائی جائے،ملک کبھی بھی جھوٹ اور منافقت کے تحت نہیں چلتے ہیں انہوں نے کہاکہ سیاست میں سب سے زیادہ جھوٹ ہے۔
انہوں نے کہاکہ جو سمجھتے ہیں کہ قوم کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے وہ بھول میں ہیں قوم کو سمجھ آگئی ہے کہ اصلی چہرے کون ہیں اور نقلی چہرے کون ہیں۔سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ حکومت نے ایمرجنسی لگانی تھی لگا لی اور گورنر راج بھی لگا لیا جس کا بہت دکھ ہوا۔
انہوں نے کہاکہ حکومتی وزرا نے صوبے کے کروڑوں عوام کی دل شکنی کی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومتی وزرا کو دہشت گردی کا کوئی پتہ نہیں ہے۔جس صوبے نے اپنے بچے قربان کئے اور لاشیں اٹھائی ہیں۔اس صوبے کو گلستان سے قبرستا بنایا ہے یہ ہم نے نہیں بنایا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے پہلے طالبان بنائے اور اس کے بعد ان کو دہشت گرد قرار دیا یہ ہم نے نہیں بنائے تھے۔انہوں نے کہاکہ پختونوں نے پاکستان کو بچایا ہے اور آج ہمیں دہشت گرد کہا جارہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان چار سالوں میں پاکستان 72فیصد کمزور ہوا ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک مضبو ط ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یواین ڈی پی کی رپورٹ دیکھ لیں کہ اس حکومت نے کتنی تنزلی کی ہے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی گئی مگر اپوزیشن اراکین نے ایوان میں شور شرابا شروع کردیا جس کے بعد چیرمین سینیٹ نے قرارداد پر اراکین کی رائے لی۔
اپوزیشن اراکین نے اس موقع پر ایوان کی کاروائی سے احتجاجا واک آوٹ کیا جس کے بعد قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔دریں اثناء قومی اسمبلی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی مذمت کی اور کہا کہ جب مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے تو توقعات وابستہ تھیں اور لوگوں کی نظریں بھی اسی عمل پر لگی ہوئی تھیں۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ اس ایوان میں وہ واحد شخص ہوں جس نے خود دہشت گردی کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک صوبے سے گورنر راج کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو یہ پنجاب اور سندھ تک بھی پہنچ سکتا ہے

