جی ایف ایس پرائیڈ آگ لگنے کے بعد ڈوب گیا، دوسرے جہاز کو بھی نقصان پہنچا؛ دونوں جہازوں کے تمام 43 اہلکار محفوظ رہے
سنگاپور (الفجرآن لائن): آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم بردار دو مال بردار بحری جہاز نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائلز کا نشانہ بن گئے، جس کے نتیجے میں ایک جہاز میں آگ لگنے کے بعد وہ سمندر میں ڈوب گیا، جبکہ دوسرا جہاز نقصان کے باوجود محفوظ لنگرگاہ تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ دونوں جہازوں پر سوار عملے کے تمام 43 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جی ایف ایس پرائیڈ (GFS Pride) کو 13 اکتوبر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ پروجیکٹائل لگنے سے جہاز کو نقصان پہنچا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد وہ ڈوب گیا۔ جہاز پر سوار عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
اتھارٹی نے بتایا کہ دوسرا مال بردار جہاز جی ایف ایس جیزیل (GFS Giselle) بھی 14 اکتوبر کو نشانہ بنا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز کے بیرونی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنے انجن کی مدد سے محفوظ لنگرگاہ تک پہنچ گیا۔ جہاز پر موجود عملے کے تمام 22 ارکان محفوظ رہے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق دونوں جہازوں پر سنگاپور کا کوئی شہری سوار نہیں تھا۔ حکام جہازوں کی انتظامی کمپنی سے رابطے میں ہیں اور صورتِ حال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے بھی آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر بردار جہاز کے بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے، اس میں آگ لگنے اور بعد ازاں ڈوبنے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی بیان میں جہاز کے مالک ملک کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ تاہم، دستیاب معلومات سے اس دعوے اور سنگاپور کے جہاز کے ڈوبنے کے واقعے کے درمیان مکمل تعلق کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی۔

