کوئٹہ (الفجر آن لائن) بلوچستان میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مغربی روٹ کے تحت شاہراہوں کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کا مقصد صوبے میں جدید مواصلاتی نظام کو فروغ دینا، تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مغربی روٹ پر مجموعی طور پر 718 کلومیٹر طویل شاہراہوں کے منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ ان منصوبوں کے لیے مختص فنڈز میں سے 163.17 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، خضدار، کچلاک شاہراہ کے 330 کلومیٹر طویل منصوبے کے لیے 82.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ہوشاب، آواران، نال، بسیمہ، خضدار اور ڑوب، کچلاک روٹس کے لیے مختص 83.2 ارب روپے میں سے 54.9 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
بلوچستان کے اہم مواصلاتی راستوں میں بسیمہ اور خضدار روٹ کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے، جہاں مختص فنڈز کا 94 فیصد ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے کی اطلاع ہے۔
ان منصوبوں کی تکمیل سے مختلف علاقوں کے درمیان سفری رابطوں میں بہتری، سامان کی نقل و حمل میں آسانی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
سی پیک کے مغربی روٹ پر شاہراہوں کی تعمیر بلوچستان کو قومی تجارتی نیٹ ورک سے مؤثر انداز میں منسلک کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
جدید سڑکوں کے ذریعے زرعی پیداوار، مقامی صنعتوں اور تجارتی سامان کی ترسیل کو سہولت مل سکتی ہے، جبکہ دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر ہونے سے روزگار اور سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور ان کے مؤثر استعمال سے بلوچستان کی معاشی ترقی، علاقائی رابطہ کاری اور تجارتی اہمیت میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے

