صوبے میں پانی کے مؤثر استعمال، جدید زرعی طریقوں اور آبی وسائل کے تحفظ پر توجہ دینا ہوگی، صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات کا پہلی بلوچستان فوڈ ایگزیبیشن 2026 سے خطاب
کوئٹہ(الفجرآن لائن): صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے خوراک بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ خالص، محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت بلوچستان خوراک کے معیار اور تحفظ کو یقینی بنانے، زرعی شعبے کو ترقی دینے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر بلوچستان ایگریکلچر کالج، بلیلی روڈ کوئٹہ میں منعقدہ پہلی بلوچستان فوڈ ایگزیبیشن 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے فیتہ کاٹ کر دو روزہ نمائش کا افتتاح کیا اور مختلف زرعی مصنوعات کے اسٹالز کا دورہ بھی کیا۔
میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کا بیشتر حصہ خشک اور کم بارشوں والے علاقوں پر مشتمل ہے، تاہم صوبے کے متعدد علاقے اپنی زرعی پیداوار کے باعث فوڈ باسکٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ زرعی شعبے میں مزید ترقی کے لیے پانی کے وسائل کا مؤثر استعمال، آبی ذخائر کی تعمیر اور جدید زرعی طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں زرعی ترقی کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ اور زمینداروں و کسانوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق پانی کی دستیابی اور وسائل کے مؤثر انتظام کو بہتر بنائے بغیر زرعی شعبے کی پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں بھی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ صوبے میں بھیڑ بکریوں سمیت مویشیوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے، جبکہ طویل ساحلی پٹی اور وسیع سمندری حدود ماہی گیری کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں۔ تاہم انہوں نے غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بین الاقوامی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے استفادہ کرنا ضروری ہے۔ زمینداروں اور کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مؤثر طریقوں سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ پانی کے ضیاع کو کم کیا جا سکے، زیرِ زمین پانی کے تیزی سے گرتے ہوئے ذخائر کو محفوظ بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔ انہوں نے زرعی اور آبی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے نمائندے ولید مہدی نے بتایا کہ پہلی بلوچستان فوڈ ایگزیبیشن 2026 کا انعقاد بلوچستان ریور بیسنز واٹر ریسورسز پروگرام (RBWRP) کے تحت کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق نمائش 15 اور 16 اکتوبر تک جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ نمائش کا بنیادی مقصد زرعی شعبے سے وابستہ چھوٹے کاروباری اداروں، کسانوں اور کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے، منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور کاروباری روابط قائم کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
تقریب میں محترمہ اسدی بتول، چیف آرگنائزر قادق آغا اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا، جبکہ متعلقہ سرکاری محکموں اور شعبہ زراعت سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اس نوعیت کی نمائشیں بلوچستان کی زرعی معیشت کو مستحکم کرنے، چھوٹے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کرنے اور مقامی زرعی مصنوعات کی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

