اسلام آباد (الفجرآن لائن) حکومت نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ کسی تیسرے مقام کے تعین کی شرط مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی ممکن ہے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات کے لیے کسی متبادل مقام کی گنجائش نہیں، کیونکہ وزیراعظم ہاؤس کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ریاست کی ملکیت ہے۔
انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو وزیراعظم ہاؤس آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کا خیرمقدم کرنے کے لیے تیار ہے۔رانا ثناء اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ کسی دوسری جگہ ملاقات پر اصرار قابل قبول نہیں۔
ان کے مطابق ماضی میں بھی اس نوعیت کی شرائط سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ملاقات کے لیے اس طرح کی ضد مناسب طریقہ کار نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر سے ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی کرنی ہے اور اس مقصد کے لیے کسی تیسرے مقام کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
مشیر وزیراعظم نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے سلسلے میں وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو دو خطوط ارسال کیے ہیں۔
ایک خط اپوزیشن لیڈر کے امریکا روانہ ہونے سے قبل جبکہ دوسرا ان کی واپسی کے بعد لکھا گیا۔رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت اب اپوزیشن لیڈر کے جواب کی منتظر ہے۔
انہوں نے محمود خان اچکزئی سے کہا کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے لیے اپنی دستیابی سے آگاہ کریں اور بتائیں کہ وہ کب وزیراعظم ہاؤس تشریف لا رہے ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملاقات کے ذریعے آئینی اور پارلیمانی معاملات پر بات چیت آگے بڑھائی جا سکے گی۔ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت آئینی عمل کا اہم حصہ ہے، اس لیے اس سلسلے میں رابطے اور پیش رفت اہمیت رکھتے ہیں۔
سیاسی مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے

