دو نامزد ملزمان گرفتار ہونے کے بعد ضمانت پر رہا، دو دیگر ملزمان مفرور؛ لاپتہ لڑکی کی بازیابی اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، شاہد رند
کوئٹہ (الفجر آن لائن): وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ قلات میں عبدالستار کے قتل اور ان کی بیٹی لائبہ ستار کی گمشدگی کے معاملے پر ایس پی قلات نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی رولنگ کی تعمیل میں ڈی آئی جی پولیس خضدار رینج کو پیش رفت رپورٹ ارسال کردی ہے۔
شاہد رند کے مطابق پولیس رپورٹ میں مقدمے کی تفصیلات، اب تک کی گئی کارروائی، گرفتار اور مفرور نامزد ملزمان کی صورتحال اور لاپتہ لڑکی کی بازیابی کے لیے جاری کوششوں سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔ پولیس مختلف علاقوں میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے تاکہ لائبہ ستار کو بحفاظت بازیاب اور قتل کیس میں مفرور نامزد ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس رپورٹ کے مطابق لائبہ ستار 29 مارچ 2026 کو قلات کے علاقے خیل سے لاپتہ ہوئی تھیں۔ اہل خانہ کو اگلی صبح گھر کے صحن سے مبینہ طور پر ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط ملا، جس میں ان کے کالعدم تنظیم بی ایل اے کی مجید بریگیڈ میں فدائی بننے کے ارادے کا ذکر تھا۔
رپورٹ کے مطابق اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ شادی کا پیغام مسترد کیے جانے کے بعد عبدالسلام نامی شخص نے لائبہ ستار کو اغوا کیا اور گمشدگی کے اصل حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے مذکورہ خط چھوڑا۔ شاہد رند نے واضح کیا کہ اغوا سے متعلق ان الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا، اس لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ قانون کے مطابق لیا جانا ضروری ہے۔
شاہد رند نے بتایا کہ پولیس رپورٹ کے مطابق عبدالستار کو یکم مئی 2026 کو قلات کے علاقے خیل میں گھر واپس جاتے ہوئے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ سٹی قلات میں ایف آئی آر نمبر 16/2026 کے تحت درج کیا گیا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو نامزد ملزمان عبدالوحید اور اسرار کو گرفتار کیا، تاہم بعد ازاں انہیں مجاز عدالت سے ضمانت مل گئی۔ مقدمہ تاحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جبکہ عبدالسلام اور محمد طیب نامی دو دیگر نامزد ملزمان مفرور ہیں۔
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پولیس مفرور ملزمان کی گرفتاری اور لائبہ ستار کی بازیابی کے لیے مختلف علاقوں میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان کے درست ٹھکانوں کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔ پولیس ذرائع سے معلومات کی جانچ کر رہی ہے اور مصدقہ سراغ ملنے پر متعلقہ حکام کے تعاون سے کارروائی کی جائے گی۔
شاہد رند نے کہا کہ لاپتہ لڑکی کی بحفاظت بازیابی، مفرور ملزمان کی گرفتاری اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی اہم ترجیحات ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ مقدمے میں تمام کارروائی قانون اور عدالتی تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ اداروں کو دستیاب شواہد اور مصدقہ معلومات کی بنیاد پر کوششیں جاری رکھنے اور مقدمے میں ہونے والی پیش رفت سے اعلیٰ حکام کو آگاہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

