اصغر خان اچکزئی نے معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایت کردی، شہید پولیس اہلکار کے چوری شدہ سامان کی برآمدگی پر کمیشن کا اظہارِ اطمینان
کوئٹہ، 19 اکتوبر 2026: ضلع زیارت کے مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن نے حکومت بلوچستان سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور زیارت سانحے کے شہدا کے لواحقین سے کیے گئے معاہدے کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات پر جامع رپورٹس طلب کرلی ہیں۔
جسٹس محمد عامر نواز رانا کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن نے گزشتہ روز کھلی عدالت میں کارروائی کرتے ہوئے متعدد گواہوں کے بیانات قلمبند کیے، جن میں سیاسی رہنما اصغر خان اچکزئی بھی شامل تھے۔
سماعت کے دوران اصغر خان اچکزئی نے حکومت اور زیارت سانحے کے شہدا کے لواحقین کے درمیان طے پانے والے تحریری معاہدے کی متعدد شقوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور حکومتی رویے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کمیشن کے سامنے سیاسی، حکومتی اور عسکری قیادت کی توثیق شدہ نیشنل ایکشن پلان کی نقول بھی پیش کیں۔
اصغر خان اچکزئی کے مطابق نیشنل ایکشن پلان میں دہشت گردوں، غیر قانونی مسلح گروہوں، کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسند عناصر کے خلاف سکیورٹی کارروائیوں کے علاوہ ان کے مالی وسائل، سہولت کاری کے نیٹ ورکس اور منشیات کے مراکز کے خلاف اقدامات کا جامع لائحہ عمل شامل ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی سنگین صورتحال پر قابو پانے اور مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔
اس موقع پر تحقیقاتی کمیشن نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل بلوچستان اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ اصغر خان اچکزئی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر حکومت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے الگ الگ جامع رپورٹس آئندہ سماعت پر پیش کریں۔
سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ڈائریکٹر ویب اینالیسس ڈویژن نے بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوکر سانحے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے مبینہ جھوٹے، سنسنی خیز اور نفرت انگیز مواد کے خلاف کیے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کی۔
انہوں نے کمیشن کی ہدایت کی روشنی میں وفاقی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (ایس ایم پی آر اے) کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی پیش کیا۔ رپورٹ کے مطابق اتھارٹی کے چیئرپرسن اور چھ ارکان کا تقرر کردیا گیا ہے۔
دریں اثنا، شہید پولیس اہلکار جہانداد خان کے سول ہسپتال کوئٹہ میں موبائل فون اور دیگر سامان چوری ہونے کے معاملے میں متعلقہ تفتیشی افسر بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے چوری شدہ سامان کی برآمدگی سے متعلق پیش رفت رپورٹ جمع کرائی اور بتایا کہ واقعے میں ملوث ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں۔ ملزمان کے اعترافی بیان کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کمیشن کو فراہم کردی گئی۔
جسٹس محمد عامر نواز رانا نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے کارروائی کی جائے۔
تحقیقاتی کمیشن کی مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کردی گئی۔

