پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو چیلنج کر دیا گیا، سیاسی قوتوں کو آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے کی اپیل
پشاور (الفجر آن لائن): قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اگر عدالتوں نے اپنا آئینی کردار ادا نہ کیا تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے، جو زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا مقصد یہی رکھا ہے کہ قومی اور سیاسی معاملات کے فیصلے آئینی و قانونی فورمز پر ہوں۔
پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کے موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے دیگر رہنماؤں، علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر خان اور سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ انہیں کسی سیاسی جماعت یا رہنما سے ذاتی دشمنی نہیں۔ ان کے بقول پشاور ان کی تحریکوں اور سیاسی جدوجہد کا مرکز رہا ہے اور پاکستان کے قیام سے جمہوری و غیر جمہوری قوتوں کے درمیان کشمکش جاری ہے، جو اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو اس کے نتائج ملک کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ وفاق ہے، جہاں پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی سمیت مختلف اقوام آباد ہیں اور کسی کو کسی پر آقائی یا غلامی کا حق حاصل نہیں۔
محمود خان اچکزئی نے 1973 کے آئین کو ملک کا اہم سماجی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس آئین کی تشکیل کے بعد جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کی امید پیدا ہوئی تھی، تاہم غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت سے جمہوری اداروں کو بارہا نقصان پہنچا۔ انہوں نے ماضی میں اسمبلیوں کی تحلیل اور آئینی اختیارات کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قوتیں متحد ہو کر جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے کردار ادا کر سکتی ہیں۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ ان کی کسی سے ذاتی مخالفت نہیں، نہ وزیراعظم شہباز شریف سے، نہ صدر آصف علی زرداری سے اور نہ ہی کسی دوسری سیاسی جماعت سے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی بالادستی، جمہوری اداروں کے استحکام اور ملک میں سیاسی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
محمود خان اچکزئی کے بیان کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے عدالت سے رجوع کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے اہم معاملات پر آئینی طریقۂ کار کے مطابق فیصلہ ہو اور سیاسی تنازعات کو قانونی دائرے میں حل کیا جائے۔

