نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے کھیل اور ہم نصابی سرگرمیاں ضروری ہیں، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل؛ دیگر سرکاری جامعات کو بھی اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرنے کی ترغیب
کوئٹہ (الفجر آن لائن): گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) کے سالانہ اسپورٹس فیسٹیول کا افتتاح کر دیا۔ چھ سال کے وقفے کے بعد منعقد ہونے والے اس فیسٹیول میں تین ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے 14 مختلف کھیلوں میں حصہ لیا، جبکہ افتتاحی تقریب میں نوجوانوں کے جوش و خروش، روایتی رقص اور ثقافتی رنگوں نے سماں باندھ دیا۔
تقریب میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کے علاوہ امریکہ سے آئے ہوئے مہمانانِ گرامی تنویر احمد اور سید عذیر حسن، صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو، وائس چانسلر بیوٹمز یونیورسٹی ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میروائس کاسی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، کھلاڑیوں اور شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ گورنر بلوچستان اور امریکی مہمانوں کا یونیورسٹی آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ اسپورٹس فیسٹیول نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کی تخلیقی توانائیوں کو مثبت سمت دینے کا اہم ذریعہ ہے۔ جامعات کا مقصد صرف روایتی ڈگریاں فراہم کرنا نہیں بلکہ باشعور، خوداعتماد اور ذمہ دار نسل تیار کرنا بھی ہے، جو مستقبل میں ملک کی قیادت سنبھال سکے۔
انہوں نے کہا کہ کھیلوں، تقریری مقابلوں، موسیقی، مصوری، مجسمہ سازی اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کو محض غیر نصابی سرگرمیاں سمجھنا درست نہیں، کیونکہ یہ معیاری تعلیم و تربیت کا اہم حصہ ہیں۔ ایسی سرگرمیاں طلبہ میں نظم و ضبط، خوداعتمادی، تنقیدی سوچ اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا کرتی ہیں۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ بیوٹمز یونیورسٹی طلبہ و طالبات کو اپنی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے قابلِ قدر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔ اسپورٹس فیسٹیول نوجوانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ کامیابی صرف انفرادی صلاحیت سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اجتماعی کوشش، باہمی اعتماد، مسلسل محنت اور نظم و ضبط بھی اس کے بنیادی اجزا ہیں۔
انہوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میروائس کاسی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو ایسا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جہاں تعلیم کے ساتھ کھیل، تخلیقی اظہار اور فکری نشوونما کو بھی اہمیت دی جائے۔ انہوں نے دیگر سرکاری جامعات پر بھی زور دیا کہ وہ اسپورٹس فیسٹیولز کا انعقاد کریں تاکہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مزید مواقع میسر آ سکیں۔
جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ انہیں جدید سہولیات، فکری رہنمائی اور سازگار ماحول فراہم کرکے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی کامیابی، وطن عزیز کی پائیدار ترقی، امن اور معاشی خوشحالی کے لیے دعا بھی کی۔
امریکہ سے آئے ہوئے مہمان تنویر احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچ، پشتون، سندھی، پنجابی، ہزارہ اور گلگتی سمیت مختلف ثقافتی و لسانی شناختوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو ایک پرچم تلے متحد دیکھنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ نئے اور منفرد تخلیقی خیالات پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تین ہزار نوجوانوں میں سے ہر ایک ایک نیا خیال پیش کرے تو یہ خیالات عالمی سطح پر پاکستان کی تخلیقی صلاحیتوں اور نوجوانوں کے مثبت کردار کی عکاسی کر سکتے ہیں۔
سید عذیر حسن نے کہا کہ اسپورٹس فیسٹیول میں بلوچستان کی مختلف قومیتوں، ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع دیکھنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مختلف ثقافتی شناختوں کے باوجود پاکستانیت ایک مشترکہ قومی شناخت ہے، جو سب کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔
بیوٹمز یونیورسٹی کے سالانہ اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد طلبہ کو کھیلوں، تخلیقی سرگرمیوں اور باہمی تعاون کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ مختلف ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کا ذریعہ بھی بنا۔

