ایک گردے کی پیوندکاری کے عوض 30 لاکھ روپے وصول کیے جانے کا انکشاف، 8 کروڑ 75 لاکھ روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد، تین گاڑیاں ضبط؛ ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اسلام آباد (الفجر آن لائن): وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث ایک مبینہ منظم گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر، نرس اور ایجنٹوں سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ایف آئی اے کے مطابق نیٹ ورک کے ارکان مبینہ طور پر ڈونرز کا انتظام کرنے، جعلی ریفرل خطوط استعمال کرنے اور رہائشی مکانات میں غیر قانونی پیوندکاری کے آپریشنز میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران 8 کروڑ 75 لاکھ روپے مالیت کی دو جائیدادیں منجمد، 10 لاکھ روپے نقد برآمد اور تین گاڑیاں ضبط کر لی گئیں، جبکہ گرفتار ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (HOTA) کے ہمراہ اسلام آباد کی پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی میں کارروائی کی۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزمان مبینہ طور پر گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کے منظم نیٹ ورک کا حصہ تھے، جس میں طبی عملے، ایجنٹوں اور دیگر سہولت کاروں کے ملوث ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گروہ مبینہ طور پر ایک گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کے عوض 30 لاکھ روپے وصول کرتا تھا۔ ڈونرز کا انتظام ایجنٹوں کے ذریعے کیا جاتا تھا، جنہیں گردہ عطیہ کرنے والے افراد کو 4 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا جاتا تھا، جبکہ ایجنٹوں کا کمیشن 60 ہزار روپے مقرر تھا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مبینہ طور پر غیر قانونی پیوندکاری کے لیے رہائشی مکانات استعمال کیے جاتے تھے۔ ایف آئی اے کے مطابق بعض افراد کے پاس طبی ڈگریاں اور متعلقہ اسناد موجود نہ ہونے کے باوجود پیوندکاری کے عمل میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ مزید یہ کہ مبینہ طور پر جعلی ریفرل خطوط استعمال کیے جاتے اور ڈونرز کے طبی ٹیسٹ وصول کنندگان کے رشتہ داروں کے نام پر کرائے جاتے تھے تاکہ اصل ڈونرز کی شناخت چھپائی جا سکے۔
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے سراغ پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی، بحریہ ٹاؤن فیز 4 اور پشاور تک ملے ہیں۔ حکام گروہ کے دیگر ممکنہ ارکان، سہولت کاروں اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدن کے ذرائع کا پتا لگانے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
8 کروڑ 75 لاکھ روپے کی جائیدادیں منجمد
ایف آئی اے کے مطابق مبینہ غیر قانونی پیوندکاری سے حاصل ہونے والی آمدن کے ذریعے قیمتی جائیدادیں خریدنے کا بھی شبہ ہے۔ کارروائی کے دوران میڈیا ٹاؤن میں 6 کروڑ 25 لاکھ روپے مالیت کا 10 مرلہ مکان اور جناح گارڈن فیز ون میں 2 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کا 5 مرلہ مکان منجمد کیا گیا ہے۔ دونوں جائیدادوں کی مجموعی مالیت 8 کروڑ 75 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ان جائیدادوں کی خریداری کے لیے استعمال ہونے والی رقم اور مبینہ غیر قانونی نیٹ ورک سے اس کے تعلق کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
تین گاڑیاں ضبط، مالی معاملات کی چھان بین شروع
ایف آئی اے نے کارروائی کے دوران 10 لاکھ روپے نقد بھی برآمد کیے، جبکہ مبینہ غیر قانونی پیوندکاری کے سیٹ اپ میں استعمال ہونے والی تین گاڑیاں ضبط کر لی گئیں۔ ان میں ایک چنگان اوشان ایکس 7 اور دو ہونڈا سِوک شامل ہیں۔ حکام کے مطابق غیر قانونی پیوندکاری کے لیے استعمال ہونے والے سیٹ اپ کو سیل کر دیا گیا ہے۔
کارروائی کے بعد ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (HOTA)، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (IHRA) اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی ٹیموں نے بھی متعلقہ مقام کا معائنہ کیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے مالی معاملات کی چھان بین کے لیے تمام بینکوں کو خطوط ارسال کیے گئے ہیں، تاکہ ان کے اکاؤنٹس، مالی لین دین اور مشتبہ رقوم سے متعلق ریکارڈ حاصل کیا جا سکے۔ حکام مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کے استعمال کی تفصیلات بھی جمع کر رہے ہیں۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ گروہ کے خلاف منی لانڈرنگ سے متعلق کارروائی بھی زیر غور ہے، جبکہ نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان اور سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

