وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس، یکساں فرائض انجام دینے والے محکموں کے انضمام اور جامع اصلاحاتی تجاویز طلب؛ سرکاری وسائل کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ
کوئٹہ، 14 اکتوبر 2026: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں گورننس کے نظام کو بہتر بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی مؤثر بنانے اور سرکاری وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے تمام سرکاری محکموں کی تنظیمِ نو اور اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں یکساں نوعیت کے فرائض انجام دینے والے محکموں کے انضمام اور غیر ضروری افرادی قوت میں کمی کے لیے سفارشات طلب کر لی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں۔ اجلاس کے دوران محکموں کی مجموعی کارکردگی، انتظامی ڈھانچے، غیر ترقیاتی اخراجات اور عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مختلف محکموں میں غیر ضروری بھرتیوں اور غیر ترقیاتی اخراجات میں مسلسل اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے وسائل کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے، جبکہ عوام کو مطلوبہ سہولیات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں کو بھرتیوں کی فیکٹریاں بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث اخراجات کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو رہے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل کی ایک ایک پائی قومی امانت ہے اور سرکاری وسائل کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری محکموں میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں اور عوام کو بہتر، مؤثر اور معیاری خدمات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنانا ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دبے محکمے عوام کو مطلوبہ خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں، جو ایک افسوسناک صورتحال ہے۔ ان کے مطابق گورننس کے مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپنی انتظامی اور پالیسی سطح کی خامیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گورننس کی خراب صورتحال کے ذمہ دار باہر سے آنے والے نہیں بلکہ اپنے ہی لوگ ہیں؛ اس لیے اصلاحات کا آغاز اپنے نظام اور طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانے سے کرنا ہوگا۔
میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی بہتری اور عوامی مفاد کے لیے سخت مگر درست فیصلے کیے جائیں گے اور اصلاحاتی عمل میں کڑے اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکموں کی تنظیمِ نو کا بنیادی مقصد انتظامی کارکردگی بہتر بنانا، غیر ضروری اخراجات کم کرنا اور دستیاب وسائل کو عوامی ضروریات پر خرچ کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے تمام سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں کے انتظامی ڈھانچے، افرادی قوت، اخراجات اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لے کر جامع اصلاحاتی سفارشات مرتب کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ تجاویز محض رسمی کارروائی تک محدود نہ ہوں بلکہ ان کے ذریعے گورننس میں بہتری اور عوامی خدمات کی فراہمی میں واضح پیش رفت ممکن بنائی جائے۔
اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا کہ سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس اگلے روز بھی جاری رہے گا، جس میں محکموں کی تنظیمِ نو اور اصلاحات سے متعلق نتیجہ خیز تجاویز مرتب کرنے پر کام کیا جائے گا۔ مجوزہ اصلاحات کا مقصد صوبائی انتظامی نظام کو زیادہ مؤثر، جواب دہ اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہے۔

