اسلام آباد/بنکاک (الفجرآن لائن) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی معاشی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے، مسلسل تین سال بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا گیا ہے جبکہ معاشی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے، مالیاتی استحکام برقرار رکھنے اور کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ میڈیا بریف کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (مینپ) کے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ پاکستان کی معاشی صورتحال، علاقائی چیلنجز اور اقتصادی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان نے مالیاتی استحکام کے حوالے سے اہم پیش رفت کی ہے۔ مسلسل تین سال بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کرنا اور مالیاتی خسارے کو 22 سال کی کم ترین سطح پر لانا حکومتی اقدامات کے اہم نتائج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے تین ماہ کی درآمدات پوری کی جا سکتی ہیں۔
محمد اورنگزیب نے خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، ستمبر میں یورو بانڈ کے اجرا اور 7 اکتوبر کو آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کو پاکستان کی معاشی پیش رفت کے شواہد قرار دیا

