اسلام آباد(الفجرآن لائن)اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور گورنر راج کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک وزیراعلیٰ کا پتہ نہیں چلتا، مذاکرات نہیں ہوں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ کو اغوا کیا گیا ہے اور حکومت پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کو حقیقی اختیار دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے وسائل پر قبضے کے منصوبے کی مزاحمت کی جائے گی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں پارلیمنٹ کو عزت نہیں دی گئی اور منتخب نمائندوں کو اپنی بات عوام تک پہنچانے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں اسپیکر تسلیم نہیں کرتے اور ان کے بقول اپوزیشن کی تقاریر عوام تک نہیں پہنچنے دی جاتیں۔
محمود خان اچکزئی نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے ارکان کو گرفتار کرکے لے جایا گیا اور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اس بنیاد پر ہونے چاہئیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ منتخب پارلیمنٹ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن غیر مشروط حمایت دینے کو تیار ہے، لیکن کسی غیر منتخب شخص کی مرضی کے خلاف حکومت ایک لفظ بھی کہنے کے لیے تیار نہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے حکومت پر وزیراعلیٰ کو اغوا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کیے، جس پر وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اعتراض کیا۔
اسپیکر نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ متنازع الفاظ کارروائی سے حذف کر دیں گے۔ اس دوران اپوزیشن کی جانب سے تقریر ریکارڈ نہ ہونے کی شکایت بھی کی گئی،
جس پر اسپیکر نے کہا کہ ریاست مخالف بات کی صورت میں ریکارڈنگ نہیں آئے گی۔محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر پابندی کے معاملے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے

