عدن(الفجرآن لائن) یمن کے جنوبی شہر عدن میں واقع العاشق صدارتی محل پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں کم از کم 4 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے، جبکہ حملے کے بعد جائے وقوعہ سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
صدارتی محل پر ہونے والے اس حملے نے شہر میں تشویش کی فضا پیدا کردی، میڈیا رپورٹس کے مطابق عینی شاہدین نے دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو پیش آنے والے اس واقعے کی تصدیق یمنی حکومت کے تین فوجی ذرائع اور مقامی پولیس اہلکاروں نے کی۔
ذرائع کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے پانچ میزائل صدارتی محل سے ٹکرائے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
سکیورٹی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میزائلوں نے عدن میں واقع العاشق صدارتی محل کو نشانہ بنایا۔ اس کمپلیکس میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا صدر دفتر بھی قائم ہے،
جس کے باعث یہ مقام حکومتی اور سکیورٹی اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے۔حملے کے وقت عدن کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ مقامی رہائشیوں نے زور دار دھماکوں کی اطلاع دی، جبکہ اے ایف پی کے ایک صحافی نے صدارتی محل کے مقام سے دھواں اٹھتے دیکھا۔
حملے کے بعد علاقے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور جانی نقصان کی تفصیلات سامنے آنے لگیں۔صدارتی محل جیسے اہم سرکاری مقام کو میزائلوں سے نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے یمن میں جاری کشیدگی اور سکیورٹی صورت حال پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کردی ہے۔
تاہم حملے کے محرکات اور اس کے مجموعی اثرات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں

