بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان مسترد، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے، پاکستان یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت پاکستان فلسطینی عوام کے حق میں اپنی حمایت جاری رکھے گا
سعودی عرب پر حوثی حملے علاقائی امن کے⁸ لیے خطرہ ہیں، مکمل حمایت کا اعلان افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی یقین دہانی نہیں دی جا رہی غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی آئی،
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان، ہفتہ وار پریس بریفنگ
اسلام آباد (الفجرآن لائن) پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
سعودی سرزمین پر حوثی ملیشیا کے حملے انتہائی قابل مذمت، سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے مکمل حامی ہیں، شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔پاکستان مکہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مکہ معاہدے کے حوالے سے مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔
تاہم معاہدے کے تحت کسی ممکنہ فوجی ردعمل یا کارروائی کا معاملہ متعلقہ سکیورٹی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ آر فور ممالک کے گروپ نے بھی سعودی ایئرپورٹ پر حملوں کی مذمت کی ہے۔
ترجمان نے بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
پاکستان ماضی میں بھارتی فوجی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دے چکا ہے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنی چاہئیں۔
کشمیری عوام کو جمعہ کی نماز کی ادائیگی سے روکنے کے واقعات پر بھی تشویش ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بھارتی اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
سجاد حیدر خان نے واضح کیا کہ 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدامات غیر قانونی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے بلوچستان و خیبر پختونخوا میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے حوالے سے افغانستان کی سرزمین کے استعمال پر شدید تحفظات ہیں۔
پاکستان چاہتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی واضح یقین دہانی کرائی جائے، تاہم افغانستان اس حوالے سے مطلوبہ یقین دہانی دینے کے لیے تیار نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر کثیرالجہتی فورمز اور دوست ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کا خواہاں ہے اور افغانستان سے متعلق دوست ممالک کی کسی بھی مثبت کوشش کا خیرمقدم کرے گا۔
ترجمان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں ہونے والی بعض کارروائیوں میں بھارتی پراکسیز بھی ملوث ہیں۔یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف اہم اقدامات کیے ہیں۔
پاکستانی اقدامات کے نتیجے میں یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی آئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مختلف ادارہ جاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسناد کی تصدیق کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ای اٹیسٹیشن سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے،
جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ماضی میں اسناد کی تصدیق کے عمل میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے محکمہ جاتی انکوائری بھی جاری ہے۔

