کوئٹہ (الفجرآن لائن) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان اور ملک کے دیگر صوبوں میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمت نے عوام کو مشکلات سے دو چار کر دیا ہے گزشتہ ایک ماہ کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں تقریباً 500 روپے اور 50 کی بوری کی قیمت میں 2 ہزار روپے اور 100 کلو بوری کی قیمت میں 3 ہزار روپے اضافہ ہوچکا ہے۔
آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق صدر سید ناصر آغا نے کہاہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری کے حوالے سے پالیسی اور گندم نہ خریدنے کی وجہ سے دوسرے صوبوں سے گندم کی سپلائی بند ہے اور آٹے کی قیمت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اس کے علاوہ بجلی کی قیمت میں اضافہ اور لیبر کے بڑھتے ہوئے اخراجات بھی مہنگائی کا سبب بن رہے ہیں۔
چھ ماہ قبل گندم کی نئی فصل آنے کے باوجود کوئٹہ اور بلوچستان میں اس سال آٹے کی قیمت کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھتی جارہی ہے دوسرے صوبوں سے گندم کی دوسرے اضلاع میں فراہمی پر پابندی کی وجہ سے بلوچستان میں گندم نہیں آرہی اور صوبائی حکومت نے بھی گندم نہیں خریدی جس کی وجہ سے کوئٹہ میں پہلے 20 کلو آٹے کا تھیلا 2800 روپے میں مل رہا تھا
جو اب 3200 روپے میں مل رہا ہے اسی طرح 50 کلو آٹے کی بوری 6000 روپے میں اب 8000 روپے میں اسی طرح 100 کلوبوری 12 سے 13 ہزار روپے میں اب 16 ہزار روپے میں مل رہی ہے اسی طرح چکی کا آٹا جو پہلے 5 کلو 800 روپے میں مل رہا تھا اب 950 روپے میں مل رہا ہے۔
ایک ماہ قبل کوئٹہ میں آٹا فی کلو 150 سے 155 روپے فی کلو فروخت ہورہا تھا اب 165 سے 175 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے۔ آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق صدر سید ناصر آغا نے بتایا ہے کہ فلور ملز اوپن مارکیٹ سے مہنگے داموں گندم خرید کر شہریوں کو آٹا فراہم کررہے ہیں 100 کلو کی بوری پر 2 سے ڈھائی ہزار روپے خرچہ آتا ہے جس میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمت اور لیبر کے اخراجات کی وجہ سے قیمت بڑھ رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے فلور ملوں کو سرکاری سطح پر گندم کی فراہمی کیلئے کوئی پالیسی نہیں اس وقت بھی صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے فلور ملز کو ایک بوری گندم بھی مہیا نہیں کی جارہی۔
فلور ملز اوپن مارکیٹ گندم خرید کر یا جو ان کے پاس تھوڑی بہت گندم ہے اسی کی پسائی کرکے آٹا فروخت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے گندم کی فراہمی کیلئے کوئی اقدامات نہ اٹھائے تو کوئٹہ میں آٹے کی قیمت مزید بڑھ جائے گی جو شہریوں کی قوت خرید سے باہر ہوگی

