ایبٹ آباد (الفجرآن لائن) پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جہاں تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس نے وطن عزیز کے دفاع، قومی خدمت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
تقریب میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ پاکستانی اور دوست ممالک سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس نے اکیڈمی میں حاصل ہونے والی تربیت، نظم و ضبط اور قیادت کی صلاحیتوں کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے لیے اہم قرار دیا۔
پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر کیڈٹس کے تاثرات میں وطن سے محبت، سخت محنت، باہمی تعاون اور پیشہ ورانہ مہارت کے جذبات نمایاں رہے۔ مختلف اعزازات حاصل کرنے والے کیڈٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اکیڈمی میں حاصل کردہ تربیت اور رہنمائی کو عملی زندگی میں بروئے کار لاتے ہوئے اپنے فرائض ذمہ داری سے انجام دیں گے۔
اعزازی شمشیر حاصل کرنے والے اکیڈمی سینئر انڈر آفیسر محمد جنید جبار نے کہا کہ انہوں نے وطن کی خدمت کے جذبے کے تحت پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی۔ ا
ن کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے آئندہ بھی انتھک محنت جاری رکھیں گے۔پریذیڈنٹ گولڈ میڈل حاصل کرنے والے بٹالین سینئر انڈر آفیسر سید حسن عباس نے کہا کہ پی ایم اے نے نہ صرف ان کی شخصیت کو نکھارا بلکہ انہیں زندگی کا حقیقی مقصد بھی دیا۔
ان کے مطابق اکیڈمی میں تربیت نے انہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کیا۔چیف آف آرمی اسٹاف ایوارڈ حاصل کرنے والے کورس انڈر آفیسر علی احمد مصطفی نے کہا کہ پی ایم اے کی سخت تربیت اور انسٹرکٹرز کی رہنمائی نے انہیں باوقار انداز میں وطن کی خدمت کے لیے تیار کیا۔
انہوں نے تربیتی عمل کے دوران حاصل ہونے والی رہنمائی کو اپنی کامیابی میں اہم قرار دیا۔بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے فرینڈلی کنٹری کیڈٹ کمپنی سینئر انڈر آفیسر ریاض محمود خان نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کو ایک باوقار ادارہ قرار دیتے ہوئے وہاں تربیت حاصل کرنے کے موقع پر اظہار تشکر کیا۔
فرینڈلی کنٹری لیڈی کیڈٹ سارجنٹ جنت نے پی ایم اے میں اپنے سفر کو سیکھنے، نظم و ضبط اور پاک بنگلہ دوستی کا بہترین تجربہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اکیڈمی میں حاصل ہونے والی تربیت نے انہیں پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ باہمی احترام اور تعاون کی اہمیت بھی سمجھائی۔اسی طرح فرینڈلی کنٹری سینئر انڈر آفیسر علی سلام سالم نے اکیڈمی میں اپنے تجربے کو نظم و ضبط اور پاک عراق عسکری بھائی چارے کا عملی مظہر قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا مختلف ممالک کے کیڈٹس کے ساتھ تربیت سے باہمی روابط اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے مواقع میسر آئے۔کمپنی اسپورٹس سارجنٹ محمد عبداللہ نے کہا کہ حاصل ہونے والی کامیابی سخت تربیت،
باہمی تعاون اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، جو کیڈٹس کی پیشہ ورانہ مہارت کی عکاسی کرتا ہے۔جھنگ سے تعلق رکھنے والے کورس انڈر آفیسر محمد حمزہ فیاض نے پی ایم اے میں اپنے سفر کو نظم و ضبط، قیادت اور ٹیم ورک کا بہترین تجربہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اکیڈمی میں گزارے گئے وقت نے انہیں اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ایک ٹیم کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت فراہم کی۔راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی لیڈی کیڈٹ کورس جونیئر انڈر آفیسر مریم طارق نے امید ظاہر کی کہ پی ایم اے میں ان کا سفر دوسری نوجوان خواتین کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔
ان کے مطابق تربیت کے دوران حاصل ہونے والے تجربات نے انہیں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد اور مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے تیاری کا موقع فراہم کیا۔
خواتین کیڈٹس کی شرکت اور نمایاں کارکردگی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عسکری تربیت میں پیشہ ورانہ قابلیت، محنت اور نظم و ضبط بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

