پشاور (الفجرآن لائن) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے گورنر راج، ماضی میں لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) کی حمایت اور صوبے کے معدنی وسائل کے استعمال سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات پر اصولوں کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے اور مختلف مواقع پر اختیار کیے جانے والے مؤقف کی وضاحت بھی ضروری ہے۔فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمان کے گورنر راج سے متعلق مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر گورنر راج کو غلط قرار دیا جاتا ہے تو ماضی میں ایل ایف او کی حمایت کے بارے میں بھی وضاحت ہونی چاہیے۔
انہوں نے فوج اور شہدا سے متعلق زمین کی الاٹمنٹ کا معاملہ بھی اٹھایا اور مولانا فضل الرحمان سے اس حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے سیاسی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات میں ایک ہی نوعیت کے اقدامات کو مختلف سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر الگ الگ انداز میں دیکھا جاتا ہے۔
ان کے مطابق سیاسی رہنماؤں کو اپنے مؤقف میں یکسانیت برقرار رکھنی چاہیے۔فیصل کریم کنڈی نے بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں معدنی وسائل کے حوالے سے بھی مولانا فضل الرحمان سے سوالات کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ معدنیات سے مالا مال علاقوں میں قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کا مقصد مقامی آبادی کے لیے ترقی، روزگار اور خوشحالی کے مواقع پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمان معدنی وسائل کے استخراج کے معاملے پر ایسا مؤقف رکھتے ہیں جو ان علاقوں کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد مقامی آبادی تک پہنچنے چاہییں تاکہ عوام کو معاشی بہتری اور روزگار کے مواقع میسر آ سکیں

