صحبت پور کی ماہرہ محمود برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی جبکہ کوہلو کی حمیرہ یونس آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ میں تعلیم حاصل کریں گی، غریب اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا چاہتے ہیں، میر سرفراز بگٹی
کوئٹہ، (الفجر آن لائن): حکومت بلوچستان کی بینظیر بھٹو اسکالرشپ نے صوبے کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے عالمی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ صحبت پور کی ماہرہ محمود نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی جبکہ کوہلو کی حمیرہ یونس نے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ تک رسائی حاصل کرکے بلوچستان کے لیے اعزاز حاصل کیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دونوں طالبات کی کامیابی کو صوبے کے نوجوانوں، بالخصوص طالبات کے روشن مستقبل کی امید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا عزم ہے کہ کسی بھی باصلاحیت نوجوان کا خواب محض مالی وسائل کی کمی کے باعث ادھورا نہ رہ جائے۔
ماہرہ محمود کا تعلق بلوچستان کے دور افتادہ علاقے صحبت پور سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں اسکالرشپ نہ ملتی تو تعلیمی اخراجات کے باعث آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب کبھی پورا نہ ہو پاتا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اس اقدام کو عملی جامہ پہنانے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ اپنا خواب جی رہی ہیں۔
ماہرہ محمود نے کہا کہ لیڈی مارگریٹ ہال کا حصہ بننا ان کے لیے باعثِ فخر ہے، کیونکہ اس تاریخی کالج سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی بھی وابستگی رہی ہے۔ ان کے مطابق اس درسگاہ میں تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔
دوسری جانب ضلع کوہلو سے تعلق رکھنے والی حمیرہ یونس نے بینظیر اسکالرشپ کے تحت آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ میں تعلیم کے حصول کا موقع حاصل کیا ہے۔ دونوں طالبات کی کامیابیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کی بیٹیاں بھی اپنی قابلیت اور محنت کے بل بوتے پر عالمی سطح کی جامعات تک پہنچ سکتی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دونوں طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری قابلِ فخر بیٹیاں ہیں، آپ کی کامیابیاں بلوچستان کے ہر نوجوان اور ہر بیٹی کے روشن مستقبل کی امید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ایک بیٹی صحبت پور سے آکسفورڈ اور دوسری کوہلو سے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ پہنچ گئی ہے۔ یہی وہ بلوچستان ہے جہاں حکومت غربت کو خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور اب بلوچستان کے غریب اور متوسط طبقے کے بچے بھی ان عالمی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کر سکیں گے جہاں عموماً صاحبِ حیثیت خاندانوں کے بچے پڑھتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ بلوچستان میں کسی بچے کا مستقبل اس کے والدین کی مالی حیثیت کے بجائے اس کی قابلیت، محنت اور صلاحیت سے طے ہو۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ بینظیر اسکالرشپ محض مالی معاونت نہیں بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ترقی، خود اعتمادی اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا نیا راستہ ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کسی بھی باصلاحیت نوجوان کا تعلیمی خواب مالی مشکلات کی وجہ سے ادھورا نہ رہ جائے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی بیٹیوں کی کامیابی پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے اور حکومت تعلیم کے ذریعے ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتی ہے جہاں ہر بچے کو آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔

