اسلام آباد(الفجرآن لائن): بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن اور عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے پاکستان میں صنفی مساوات، خواتین کے معاشی استحکام اور سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کر دیے۔
اس شراکت داری کا مقصد خواتین کو صرف مالی امداد حاصل کرنے والوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں اپنے حقوق سے آگاہ، فیصلہ سازی میں شریک اور معاشی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ بینظیر کفالت پروگرام کے تحت ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد خواتین کو سہ ماہی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے خواتین تک سماجی تحفظ کی سہولیات پہنچانے کا ایک وسیع نظام موجود ہے۔
بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ادارہ صنفی تقاضوں سے ہم آہنگ سماجی تحفظ، خواتین کی معاشی خودمختاری اور معذور افراد کے لیے خدمات کو زیادہ جامع اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو این ویمن اور ڈبلیو ایف پی کے ساتھ تعاون کے ذریعے خواتین اور کمزور طبقات کی ضروریات کے مطابق محفوظ اور باوقار خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ کوششوں کے تحت خواتین کو ان کے حقوق اور مراعات سے آگاہ کرنے، مشاورت، ماں اور بچے کی صحت، اور بینظیر نشوونما مراکز میں خدمات کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ خواتین کی فنی تربیت، روزگار، کاروباری صلاحیتوں، مالیاتی اور ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی کو فروغ دینے کے ساتھ خواتین عملے کے تحفظ اور خاندانوں میں مشترکہ ذمہ داریوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔
پاکستان میں یو این ویمن کے کنٹری نمائندے، جمشید ایم کاظی نے کہا کہ سماجی تحفظ صنفی مساوات کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، بشرطیکہ اس نظام کو خواتین کی ضروریات اور ان کی شمولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شراکت داری کا مقصد مالی امداد سے آگے بڑھ کر خواتین کی آواز، تحفظ اور معاشی فیصلے کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ مردوں اور خاندانوں کو بھی اس عمل میں شریک کیا جائے گا۔
پاکستان میں عالمی خوراک پروگرام کی نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے کہا کہ اچھی غذائیت خواتین کی صحت، فلاح و بہبود اور اپنے خاندان کے لیے فیصلے کرنے کی صلاحیت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام خواتین اور کم عمر بچوں کی معاونت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جسے یو این ویمن کے تعاون سے مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ خواتین کو خدمات کے حصول میں درپیش رکاوٹیں کم ہوں اور ان کی عزت، تحفظ اور ضروریات کو ترجیح دی جا سکے۔
مشترکہ تعاون کے تحت چاروں صوبوں میں بینظیر نشوونما کے زیادہ سے زیادہ 12 سہولت مراکز کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس عمل میں خواتین کی رازداری، تحفظ، رسائی، عزت و وقار اور خدمات کے معیار کا جائزہ لینے کے علاوہ مراکز کو صنفی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے رہنما اصول اور چیک لسٹ تیار کی جائے گی۔
شراکت داری کے اہم اقدامات میں خواتین عملے کو کام کی جگہ پر تحفظ، ہراسانی سے بچاؤ، آمدورفت، کام کے بوجھ اور پیشہ ورانہ ترقی کے حوالے سے درپیش مسائل کی نشاندہی بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ مستحق خواتین کو سرکاری خدمات، دستیاب سہولیات اور اپنے حقوق سے آگاہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق خواتین کو ہنر مندی، روزگار، کاروبار، مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل سہولیات کے ذریعے معاشی خودمختاری کی جانب بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ بی آئی ایس پی کی صنفی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دینے، خواتین کی زندگیوں پر پروگرام کے اثرات کو دستاویزی شکل دینے اور خواتین کی ترقی کے لیے مشترکہ وکالت اور وسائل کے حصول پر بھی کام کیا جائے گا۔
یہ شراکت داری اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف، بالخصوص غربت کے خاتمے، بھوک کے خاتمے اور صنفی مساوات کے فروغ سے متعلق اہداف، اور پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی تعاون کے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے۔

