وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر پانچ سیکرٹریز اور چیئرمین سی ایم آئی ٹی کا دورہ، جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ
کوئٹہ، (الفجرآن لائن) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں سوئی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، تعمیراتی کاموں کے معیار کا جائزہ لینے اور منصوبوں پر پیش رفت کا معائنہ کرنے کے لیے پانچ سیکرٹریز اور چیئرمین چیف منسٹر انسپکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی) نے سوئی کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد وزیراعلیٰ کے گزشتہ ہفتے سوئی کے دورے کے بعد ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانا تھا۔
دورے میں سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ، چیئرمین سی ایم آئی ٹی بشیر احمد بنگلزئی، سیکرٹری کالجز ہاشم غلزئی، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) شاہ زیب کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری محکمہ صحت شہک بلوچ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
اس موقع پر متعلقہ ترقیاتی منصوبوں پر جاری تعمیراتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا، جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں کی رفتار، استعمال ہونے والے میٹریل اور کام کے معیار کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے منصوبوں پر عمل درآمد کی صورتِ حال کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس امر پر توجہ دی کہ ترقیاتی کام مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں اور عوامی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کا مقصد عوامی فنڈز سے شروع کیے گئے منصوبوں کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچانا، تعمیراتی معیار برقرار رکھنا اور منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے تاکہ غیر ضروری تاخیر اور غفلت کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
دورے کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوامی فنڈز کے استعمال میں غفلت، ناقص تعمیراتی کام اور معیار پر سمجھوتے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عوامی وسائل علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے چاہئیں۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی کا مقصد سرکاری وسائل کے شفاف استعمال اور منصوبوں کی مقررہ اہداف کے مطابق تکمیل کو یقینی بنانا ہے، تاکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات بہتر بنانے اور پائیدار ترقی کے لیے جاری اقدامات کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔

