سینیٹر روبینہ خالد کی لائیو ای کچہری، چھ پارٹنر بینکوں کے مجاز ریٹیلرز سے کسی بھی وقت ادائیگی کی سہولت؛ 28 شہریوں کی شکایات سنیں
اسلام آباد(الفجرآنلائن): چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل والٹ ادائیگیوں میں انٹرآپریبلٹی متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے تحت خواتین بینیفشریز ملک کے کسی بھی شہر میں، کسی بھی دن اور کسی بھی وقت چھ پارٹنر بینکوں کے مجاز ریٹیلرز سے اپنی رقم وصول کر سکیں گی۔ اس نظام کے ذریعے خواتین کو کسی ایک شہر یا بینک تک محدود رہنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
بی آئی ایس پی کی پریس ریلیز نمبر 88 کے مطابق سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ لائیو ای کچہری کے دوران 28 کالرز کے مسائل سنے اور متعلقہ افسران کو شکایات ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے بتایا کہ ڈیجیٹل والٹ کے تحت ادائیگیوں کے نظام میں چھ پارٹنر بینک شامل ہیں، جن میں حبیب بینک لمیٹڈ (HBL)، حبیب مائیکروفنانس، بینک الفلاح، ٹیلی نار مائیکروفنانس، بینک آف پنجاب اور موبی لنک/جاز بینک شامل ہیں۔ اس سہولت کا مقصد خواتین کو ادائیگیوں تک آسان رسائی فراہم کرنا اور مالی لین دین میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر خواتین کو محفوظ اور شفاف ادائیگیاں فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل والٹ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
انہوں نے خواتین بینیفشریز کو ہدایت کی کہ وہ مفت بینظیر سم صرف بی آئی ایس پی کے دفتر سے حاصل کریں۔ سم کے حصول کے لیے اصل شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون ساتھ لانا ضروری ہے، جبکہ سم کی ایکٹیویشن بی آئی ایس پی دفتر یا مقررہ سائٹ پر متعلقہ موبائل کمپنی کا نمائندہ کرے گا۔
چیئرپرسن نے مزید ہدایت کی کہ خواتین رقم کی منتقلی اور وصولی کے بعد موصول ہونے والے تصدیقی پیغامات محفوظ رکھیں اور رقم وصول کرتے وقت اپنا موبائل فون کسی ریٹیلر یا ایجنٹ کے حوالے نہ کریں۔ ادائیگی کے حصول کے لیے اصل شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جن خواتین کے شناختی کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے، وہ فوری طور پر نادرا سے اپنے شناختی کارڈز کی تجدید کروائیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی میں گھرانے کی اہلیت کا تعین سروے کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ایک سروے کے بعد دو سال مکمل ہونے سے پہلے دوبارہ سروے نہیں ہو سکتا، لہٰذا خواتین بار بار سروے کے لیے بی آئی ایس پی دفاتر کا رخ کرنے سے گریز کریں۔
بی آئی ایس پی کے مطابق ڈیجیٹل والٹ ادائیگیوں میں انٹرآپریبلٹی کا مقصد خواتین بینیفشریز کے لیے ادائیگیوں کے عمل کو زیادہ آسان، محفوظ اور قابلِ رسائی بنانا ہے، تاکہ وہ ملک بھر میں مجاز ریٹیلرز کے ذریعے اپنی مالی معاونت وصول کر سکیں۔

