پشاور(الفجرآن لائن)وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے،ہمیں مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔دو ہزار اٹھارہ تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا،قیام امن کے بعد پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا،تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا، جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا،
تمام صوبوں نے انسداد دہشت گردی کے لئے خیبر پختونخوا کو وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا،2010 کے بعد سے خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مد میں آٹھ سو ارب روپے دئیے گئے۔
افسوس کا مقام ہے کہ دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے مزید ابھر کر سامنے آ گئی، خیبر پختونخوا کے عوام محرمیوں کا شکار ہیں،وعدہ کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی،خیبر پختونخوا میں خوشیاں، امن اور ترقی کا دور واپس لائیں گے۔
جمعرات کوپشاورمیں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی صدارت میں خیبر پختونخوا کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن کے نت نئی کہانیاں سامنے آئیں ،
خیبر پختونخوا میں پینے کے صاف پانی منصوبے میں ایک سو ارب روپے کی کرپشن ہوئی،کوہستان میگا سیکنڈل میں 37 ارب کی کرپشن سامنے آئی،پلیسر گولڈ پراجیکٹ میں من پسند افراد کو ٹھیکے دئیے گئے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے،ہمیں مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔اللہ سے دعا ہے کہ صوبے میں۔ امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پشاور سکول کی چھت گرنے سے ایک استانی اور بچوں کی المناک وفات پر بہت غمزدہ ہوں،گورنر صاحب کو کہا تھا کہ وہ متاثرہ جگہ کا فوری دورہ کر کے اس سانحے کی مکمل تحقیقات کرائیں۔
چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے۔چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اْس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا،ہماری بہادر افواج اور سیکورٹی اداروں نے بہت قربانیاں دے کر خیبر پختونخوا سمیت پاکستان میں دہشت گردی کا قلع قمع کر دیاتھا،
دو ہزار اٹھارہ تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا۔ شہباز شریف نے کہاکہ یہ امن سیکورٹی اداروں سمیت ہماری ماوں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار لوگ شہید اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا،خیبرپختونخوا کے کئی سیاسی خاندانوں نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں،کئی گھراجڑ گئے،
عظیم قربانیوں کے نتیجے میں مکمل امن قائم ہوا تھا،قیام امن کے بعد پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا،تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا،
جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا،قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہماری سیکورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی۔و

