اسلام آباد(الفجرآن لائن)مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں مہنگائی بڑھی، مالی سال 2026ء میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ رہی،زرعی شعبے کی
نمو 2.9 فیصد، خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، مالی سال 2026ء میں عمومی مہنگائی کی شرح 7.1 فیصد رہی،
مالی سال 2027ء میں معاشی نمو 3.8 فیصد اور افراط زر 8.2 فیصد رہنے کی توقع ہے، پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 36 فیصد ِ ہائی اسپیڈ ڈیزل 31ِ ایل پی جی 46 فیصداور ٹرانسپورٹ کرایوں میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔
عالمی بینک نے پاکستان کی مالی سال 2026ء کی اقتصادی رپورٹ جاری کردی۔عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2026ء میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ایس اینڈ پی اور موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی، پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں 750 ملین اور 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کیے، زرعی شعبے کی نمو 2.9 فیصد رہی جبکہ لائیو سٹاک نے اہم کردار ادا کیا، خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، مالی سال 2026ء میں عمومی مہنگائی کی شرح 7.1 فیصد رہی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا،
مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا 2.6 فیصد رہ گیا،مالی سال 2027ء میں معاشی نمو 3.8 فیصد اور افراط زر 8.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان میں مہنگائی کی اوسط شرح 7.1 فیصد ریکارڈکی گئی۔مالی سال 2024-25 میں مہنگائی کی اوسط شرح 4.5 فیصد تھی، گزشتہ مالی سال میں بڑھ کر 7.1 فیصد ہوگئی،
مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں مہنگائی بڑھی، مارچ سے جون 2026 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 10.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، مئی 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی،
مالی سال 2025-26 میں شہری علاقوں میں غذائی مہنگائی کی اوسط شرح 4.3 فیصد رہی، مالی سال 2025-26 میں دیہی علاقوں میں غذائی مہنگائی کی اوسط شرح 5.4 فیصد ریکارڈ کی گئی،
گندم اور جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے سے غذائی مہنگائی بڑھی، اگست 2026 تک شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں مہنگائی بڑھانے میں غذائی اشیا کا سب سے بڑا حصہ رہا، فروری سے جون 2026 کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 36 فیصد اضافہ ہوا

