لاہور (الفجرآن لائن) وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سائبر کرائم کی تعددا میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بھی سائبر کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ خواتین اور بچیوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی تصاویر یا ویڈیوز کسی کے ساتھ شئیر مت کریں۔ کوئی آن لائن پیسے مانگے تو مت ٹرانسفر کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں این سی سی آئی اے کے دفتر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کیا۔لاہور میں این سی سی آئی اے کے زونل ہیڈکوارٹرز میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کھلی کچہری لگائی، جہاں شہریوں بالخصوص خواتین کی بڑی تعداد نے آن لائن ہراسانی، سائبر بلیک میلنگ اور مالی فراڈ سے متعلق شکایات پیش کیں۔ وزیر داخلہ نے شہریوں کی شکایات سنیں اور ان کے فوری ازالے کے لیے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو احکامات جاری کیے۔
اس موقع پر این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا محدود وسائل کے باوجود این سی آئی اے بہترین کام کر رہا ہے۔ پنجاب بھر میں این سی سی آئی کے پاس اکسٹھ افراد ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک تفتیشی افسر کو 3 سے 4 ہزار مقدمات سونپ دیے جائیں تو وہ ان کی مؤثر انداز میں تحقیقات کیسے کرسکے گا؟ محسن نقوی نے کہاکہ این سی سی آئی اے کے ملازمین کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے تاکہ زیر التوا شکایات اور مقدمات کو بروقت نمٹایا جاسکے اور شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ سائبر پولیس کو مزید متحرک اور ہر لحاظ سے مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ حکومت اس سلسلے میں ادارے کو مکمل تعاون اور ضروری وسائل فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم کے پاس بچیوں کی ہراسانی کے سب سے زیادہ کیسز آئے ہیں۔ بچیوں سے کہوں گا کہ خدا راہ کسی کے ساتھ اپنی تصویر مت شئیر کریں۔ آن لائن بہت زیادہ فراڈ ہو رہے ہیں۔ ملزمان پہلے یہ تصویر یا ویڈیو لے لیتے ہیں اور بعد میں انھیں بلیک میل کر کے پیسے بٹورٹے ہیں ۔کئی بچیاں ایسی بلیک میلنگ سے خوفزدہ ہو کر خودکشیاں کر چکی ہیں۔ اس لئے کہوں گا کوئی آن لائن اگر اپ سے پیسے مانگتا ہے تو اسے ہر گز نہ دیں۔ کوئی اگر بیمار بن کے بھی اپ سے رقم مانگے تو مت بھیجیں۔ انہوں نے کہا سائبر پولیس کو ہر حال میں مضبوط کریں۔ ہماری کوشش ہے سائلین کے مسائل حل کرنیکے لئے این سی سی آئی کی نفری پوری کی جائے۔ انہوں نے کہا سائبر کرائم کے حوالے آگاہی مہم چلائیں گے۔ جس میں بچیوں اور عام شہریوں کو آن لائن فراڈ، ہراسانی اور بلیک میلنگ سے بچاؤ کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔عوام میں آگاہی پیدا کریں تاکہ ایسے کیسز کی تعداد کم ہو۔ اس وقت دنیا بھر میں سائبر کرائم خطر ناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ آن لائن ہراسانی کے کسی بھی واقعے میں ملوث شخص کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی، چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا کوئی اور ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ این سی سی آئی اے کے پاس فی الحال وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) جیسے اختیارات نہیں ہیں، تاہم شہریوں کو بروقت انصاف اور ریلیف کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

