کوئٹہ کے علاقے لک پاس میں واقع پاکستان کسٹم ویئر ہاؤس میں اتوار کے روز خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں ایل پی جی باؤزر اور گیس سلنڈرز کے متعدد دھماکے ہوئے جبکہ تقریباً 35 افراد شدید جھلس کر زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع صبح تقریباً 11 بجے موصول ہوئی، جس پر ریلیف کمشنر / ڈی جی پی ڈی ایم اے بلوچستان کی ہدایات پر فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ ابتدائی طور پر فائر بریگیڈ اور ایمبولینسز روانہ کی گئیں جبکہ بعد ازاں ریسکیو آپریشن کو مزید وسعت دی گئی۔
پی ڈی ایم اے بلوچستان نے موقع پر 30 ریسکیورز، 13 ایمبولینسز، 4 فائر ٹرکس اور 7 واٹر باؤزرز تعینات کیے۔ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر شیخ زید اسپتال منتقل کیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد شدید زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ اور بی ایم سی برن یونٹ منتقل کردیا گیا۔
فیلڈ اسیسمنٹ کے دوران ایک بڑے ایل پی جی باؤزر دھماکے کے نتیجے میں ریلیف کمشنر / ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈپٹی کمشنر مستونگ، ونگ کمانڈر اور اسسٹنٹ کمشنر سریاب بھی معمولی زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق ویئر ہاؤس کے اندر بڑی تعداد میں ایل پی جی سلنڈرز، ایندھن اور کیمیکل موجود ہونے کے باعث صورتحال انتہائی خطرناک رہی، جس کے پیش نظر ٹیموں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے محدود انداز میں کارروائیاں جاری رکھیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
واقعے کے مقام پر ضلعی انتظامیہ، ایف سی، پولیس، ایم سی کیو فائر بریگیڈ اور پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ آگ پر قابو پانے اور علاقے کو محفوظ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔