کوئٹہ۔ بلوچستان میں خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے، ہنگامی حالات میں بروقت ردِعمل کی استعداد بڑھانے اور بین الادارہ جاتی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے تعاون سے “ٹیبل ٹاپ سیمولیشن ایکسرسائز” کے عنوان سے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ورکشاپ کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے بلوچستان اصغر علی جمالی تھے۔ اس موقع پر اینٹی سیپٹری اسپیشلسٹ ایف اے او روئیداللہ، پروگرام اسسٹنٹ ڈبلیو ایف پی اسد اللہ، یونائیٹڈ آرگنائزیشن کے ریجنل کوآرڈینیٹر بلوچستان ریحانہ خلجی سمیت وفاقی و صوبائی محکموں کے نمائندگان، ماہرین اور سماجی اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ورکشاپ کا بنیادی مقصد خشک سالی کے ممکنہ اثرات کا پیشگی جائزہ لینا، متعلقہ اداروں کے مابین مؤثر ہم آہنگی کو فروغ دینا اور بروقت و مؤثر ردِعمل کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنا تھا۔ اس دوران مختلف فرضی ہنگامی صورتحال کے تناظر میں ادارہ جاتی تیاریوں، وسائل کی دستیابی، رابطہ کاری اور امدادی اقدامات کا عملی جائزہ لیا گیا۔شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے روایتی “ری ایکٹو” طرزِ عمل کے بجائے جدید اور مؤثر “پرو ایکٹو” حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ آفت سے قبل حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔اس موقع پر کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہمیشہ صوبے کے جغرافیائی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا ہے۔ انہی ہدایات کی روشنی میں پی ڈی ایم اے بلوچستان کو جدید ڈیٹا اینالیسز، پیشگی انتباہی نظام اور عالمی معیار کی ٹیکنالوجی سے مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ قدرتی آفات کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ورکشاپ میں محکمہ موسمیات، زراعت، لائیو اسٹاک، آبپاشی، صحت، اطلاعات و دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ سیشن کے دوران ہنگامی حالات میں فوری ردِعمل، نقصانات میں کمی، متاثرہ علاقوں تک امدادی وسائل کی شفاف اور بروقت ترسیل، اور ضلعی انتظامیہ و صوبائی کنٹرول روم کے درمیان رابطوں کو مزید مستحکم بنانے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے اصغر علی جمالی نے کہا کہ اس نوعیت کی مشقیں بلوچستان کو ایک “ڈیزاسٹر ریزیلینٹ” صوبہ بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں صوبائی حکومت اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے کسانوں، مالداروں اور عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان اور پی ڈی ایم اے اپنے تمام بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال بلوچستان کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
