فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں، تفتیش کاروں اور جیل اہلکاروں کی جانب سے سفاکانہ جنسی تشدد کے الزامات
نیویارک -امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں فلسطینی قیدیوں پر مبینہ جنسی تشدد بے نقاب کر دیا ہے اور رپورٹ جاری کی ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینی عورتوں اور بچوں پر منظم جنسی تشدد کر رہی ہے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ معروف امریکی صحافی اور دو مرتبہ پلٹزر انعام یافتہ نکولس کرسٹوف نے تحریر کی، جس میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں، تفتیش کاروں اور جیل اہلکاروں کی جانب سے سفاکانہ جنسی تشدد کے الزامات سامنے لائے گئے۔رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے کے متاثرین کے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فلسطینیوں، حتیٰ کہ بچوں، کے خلاف جنسی تشدد ایک وسیع اور منظم طرز عمل بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ اسرائیلی قیادت براہِ راست ایسے اقدامات کے احکامات دیتی ہے تاہم ان کے زیر نگرانی سکیورٹی نظام میں یہ عمل معمول کی کارروائی بن چکا ہے۔رپورٹ میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات منظم ریاستی پالیسی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، سیاسی اختلافات سے قطع نظر فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی میں جنسی تشدد کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اخبار نے اسرائیل کے خلاف جھوٹا اور اشتعال انگیز پروپیگنڈا شائع کیا ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے ماہرین نے گزشتہ ماہ بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں جنسی تشدد مبینہ طور پر اسرائیلی قبضے کا ایک مرکزی ہتھیار بنتا جا رہا ہے، ایسے اقدامات محض انفرادی واقعات نہیں بلکہ منظم نوعیت رکھتے ہیں۔یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ جنگ اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔
