تہران : ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے دھمکی دی ہے کہ نئے امریکی و اسرائیلی حملے کی صورت میں ایران کے ممکنہ آپشنز میں سے ایک یورینیئم کی 90 فیصد افزودگی بھی ہو سکتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اس 90 فیصد یورینیئم افزودگی کے ممکنہ آپشنز پر پارلیمان میں جائزہ لیں گے۔
اس سے قبل اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا تھا کہ 14 نکاتی تجاویز میں درج ایرانی عوام کے حقوق قبول کرنے کے سوا کوئی متبادل نہیں۔اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا تھا کہ کوئی بھی دوسرا راستہ مکمل طور پر غیر نتیجہ خیز ہو گا، ایک کے بعد دوسری ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جتنا زیادہ اس معاملے کو تاخیر کا شکار کیا جائے گا، امریکی ٹیکس دہندگان کو اتنی ہی زیادہ قیمت چکانا پڑے گی۔
