اسلام آباد: میڈیکل تعلیم کے نظام میں شفافیت اور معیار بہتر بنانے کے لیے اہم اصلاحات کے تحت بیرونِ ملک میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے نئے قواعد نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر نگرانی ہونے والی پیش رفت میں میڈیکل تعلیم کے معیار، انسپکشن سسٹم اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کو عالمی معیار کے مطابق لانے پر زور دیا گیا ہے۔
بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم سے قبل پی ایم اینڈ ڈی سی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ ایم ڈی کیٹ پاس کیے بغیر بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم کی اجازت نہیں ہوگی۔ غیر ملکی میڈیکل ادارے کا پی ایم اینڈ ڈی سی کی منظور شدہ فہرست میں شامل ہونا ضروری ہوگا۔ غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے لیے نیشنل رجسٹریشن امتحان (NRE) پاس کرنا لازمی ہوگا۔ میڈیکل تعلیم کے لیے کم از کم 6200 تدریسی گھنٹے اور 80 فیصد حاضری لازمی قرار دی گئی ہے۔ غیر انگریزی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو پہلے مقامی زبان سیکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بیرونِ ملک روانگی سے قبل طلبہ کو رہائش اور رابطہ معلومات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے شفاف اور میرٹ پر مبنی انسپکشن سسٹم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انسپکشن کے عمل میں کسی بھی قسم کی غفلت یا بے ضابطگی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔پی ایم اینڈ ڈی سی نے کہا ہے کہ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد میڈیکل تعلیم کو عالمی معیار کے مطابق بنانا، غیر معیاری اداروں کی روک تھام اور ملک میں صحت کے شعبے کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
