بیجنگ ۔چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بیجنگ میں امریکی صدر کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ کی تقریب سے چینی صدر شی جن پنگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا دورہ ایک تاریخی دورہ ہے، چین اور امریکا دونوں کے عوام شاندار ہیں۔انہوں نے کہا کہ 55 سال قبل امریکی صدر ہینری کسنجر نے چین کا دورہ کیا جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دی، دنیا کے بہترین مفاد کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج امریکی صدر سے ملاقات میں مثبت بات چیت ہوئی، ہم مل کر امریکا کی ترقی اور چینی ریاست کی ترقی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے رہنما اس بات پر متفق تھے کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعاون پر مبنی تعلقات ضروری ہیں۔شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک ملک کر تعلقات کو نئی سمت بڑھانے پر تیار ہیں۔ چین کی تجدید اور امریکا کو دوبارہ عظیم بنانا ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں. بین الاقوامی برادری امریکا اور چین سے بہت زیادہ توقعات رکھتی ہے.شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں،امریکا اور چین تعاون اور شراکت داری سے فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ محاذ آرائی سے نقصان ہوتا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آج کا دن امریکا اور چین تعلقات کے لیے انتہائی شاندار ہے، چین کی طرف سے پرتباک استقبال کے لیے شکرگزار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات گزرتے وقت کے ساتھ مضبوط ہوئے ہیں۔ چین کے ساتھ ہماری بہت تعمیری ملاقاتیں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ انتہائِ مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی، یہاں ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
امریکا اور چین کے روابط تاریخی اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔چین کی عوام انتہائی بہادر ہیں، دونوں ممالک کے درمیان پرامن تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج میں چینی صدر اور چینی خاتون اوول کو امریکا کے دورے کی دعوت دیتا ہوں، 24 ستمبر کو دونوں امریکا آئیں ہمیں بہت خوشی ہو گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو بہت اچھی رہی‘ امریکا چین تعلقات دنیا کی تاریخ میں سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں‘ چینی صدر کے ساتھ انتہائی مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی، یہاں موجود ہونا میرے لیے اعزاز ہے۔۔صدر ٹرمپ نے بیجنگ میں تقریب سے خطاب اور ٹیمپل آف ہیون میں امریکی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ چینی صدر کے ساتھ دو گھنٹے ملاقات رہی، ٹیمپل آف ہیون ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ہے۔چین آئے امریکی صدر نے بیجنگ میں قدیم عبادت گاہوں کے مجموعے اور ایک اہم سیاحتی مرکز، ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا، کچھ دیر بعد چینی صدر شی جن پنگ بھی وہاں پہنچے اور دونوں رہنماوں نے تصاویر بنوائیں۔
ایک مرکزی حال کے سامنے تصویر بنواتے ہوئے ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا کہ یہ ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ہے، چین خوبصورت ہے۔قدیم عبادت گاہوں کا یہ وسیع و عریض کمپلیکس وہ مقام ہے جہاں منگ اور چنگ سلطنتوں کے شہنشاہ قربانیاں پیش کرتے اور اچھی فصلوں کے لیے دعا کرتے تھے۔ٹرمپ کے ہمراہ آنے والے میڈیا کے نمائندوں نے دو مرتبہ سوال کیا کہ کیا دونوں ممالک کے صدور نے تائیوان پر بات کی ہے، مگر ٹرمپ اور شی جواب دیے بغیر ہی مندر کی جانب بڑھ گئے۔ جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ مذاکرات کیسے رہے تو ٹرمپ نے کہا کہ انتظار کریں۔قبل ازیں بیجنگ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ امریکا چین تعلقات دنیا کی تاریخ میں سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج بہت بہترین دن ہے، چینی صدر میرے بہت اچھے دوست ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ انتہائی مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی، یہاں موجود ہونا میرے لیے اعزاز ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ 24 ستمبر کو چینی صدر کو امریکا آنے کی دعوت دیتے ہیں، ہمارے پاس موقع ہے کہ تعاون اور خوشحالی کے ایک بہتر مستقبل کی تخلیق کریں۔
ادھرامریکی وائٹ ہا¶س کے مطابق بیجنگ میں ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے صدور نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہیے۔دوسری جانب چینی سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ چینی صدر نے امریکا سے دوطرفہ تعلقات کی نئی سمت کو سراہا ہے۔چینی صدر کا کہنا ہے کہ چین اور امریکا تعمیری اور اسٹریٹجک طور پر مستحکم تعلقات قائم کریں گے، چین امریکا تعلقات کی نئی سمت 3 برس اور آگے بھی اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ تجارت، زراعت، صحت، سیاحت اور قانون نافذ کرنے والے شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، امریکا تائیوان کے مسئلے کو انتہائی احتیاط سے سنبھالے۔چینی ٹی وی کے مطابق چینی اور امریکی صدور نے مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور کوریا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
