اسلام آباد ، دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت میں مذاکرات کی آوازیں ایک مثبت پیش رفت ہیں اور پاکستان ان آوازوں پر بھارتی حکومت کے مثبت ردعمل کا منتظر ہے۔ تمام ریاستوں کی خودمختاری اور برابری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ خطے میں پائیدار امن صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور برابری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کا مو¿قف واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے قطر اور آذربائیجان کے رہنماو¿ں سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر کو ورلڈ اربن فورم کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔ترجمان نے کہا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے سے ملاقات کی، جس میں خطے میں امن و استحکام اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مختلف فریقین سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کردار بھی شامل ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 8 مئی کو نائب وزیراعظم نے سنگاپور کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں پاکستانی اور ایرانی بحری عملے کی واپسی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ 11 مئی کو سعودی وزیر خارجہ سے گفتگو میں بھی خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کو سراہا اور ایران و امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کی حمایت کا اظہار کیا۔اسی طرح 12 مئی کو آسٹریا کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو میں بھی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور پاکستان کی سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان کشیدگی کے خاتمے کیلئے اپنے ثالثی کے کردار کا اعادہ کرتا ہے، افغانستان پر زور دیا ہے کہ اپنی سرزمین سے دہشتگردی کو روکے۔ ترجمان نے بنوں، فتح خیل پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہی ہوے کہا کہ اس معاملے پر افغان ناظم الامور کو طلب کر کے دی مارش کیا گیا ہے ۔
ترجمان نے کہا بھارت میں مذاکرات کی آوازیں ایک مثبت پیش رفت ہیں اور پاکستان ان آوازوں پر بھارتی حکومت کے مثبت ردعمل کا منتظر ہے۔ترجمان نے ٹریک ٹو ڈپلومیسی یا بیک ڈور رابطوں سے متعلق سوال پر کہا کہ انہیں اس حوالے سے کسی قسم کے رابطوں کا علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہے اور تمام معاملات سفارتی ذرائع اور باضابطہ چینلز کے ذریعے آگے بڑھائے جاتے ہیں۔امریکہ اور چین کے درمیان جاری سفارتی روابط پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان ہونے والی پیش رفت کو بغور دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے متوقع دورہ چین کے حوالے سے تاریخوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور شیڈول فائنل ہوتے ہی باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ کشتواڑ اور لائن آف کنٹرول پر حالیہ واقعات سے متعلق ترجمان نے کہا کہ ان معاملات کے دو مختلف زاویے ہیں۔ ایک پہلو انسانی حقوق کا ہے جبکہ دوسرا امن و سلامتی سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایل او سی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ملکی دفاع کے لیے افواج پوری طرح چوکس ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی سینیٹر کے حالیہ بیان پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان امریکی نشریاتی ادارے کی خبر کے فوری بعد سامنے آیا۔ وقت کے فرق کے باعث پاکستان کا ردعمل کچھ تاخیر سے جاری ہوا، تاہم پاکستانی مو¿قف نے زمینی حقائق اور اصل صورتحال کو مکمل طور پر واضح کر دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن عمل تاحال برقرار ہے اور پاکستان اس عمل میں نہ صرف انگیج ہے بلکہ اس کے مثبت نتائج کے لیے پرامید بھی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے موصول ہونے والا جواب فوری طور پر دوسرے فریق تک پہنچا دیا گیا تھا۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کے دفاعی تعلقات کسی ہمسایہ ملک کے ایک دورے سے متاثر نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی روابط مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور یہ تعلقات باہمی اعتماد اور طویل المدتی تعاون پر مبنی ہیں۔متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کی جلاوطنی سے متعلق ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر وزارت داخلہ پہلے ہی اپنا مو¿قف پیش کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستانی شہریوں کے مسائل کے حل اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کے لیے متعلقہ ممالک سے رابطے میں ہے۔صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ مغوی پاکستانی اب بھی قزاقوں کی تحویل میں ہیں، تاہم پاکستان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ تمام افراد محفوظ ہیں اور انہیں خوراک و بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق صومالی قزاق براہِ راست کسی حکومت سے نہیں بلکہ مغویوں کے جہاز کے مالکان سے رابطے میں ہیں۔ پاکستان اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ ادارے مغوی پاکستانیوں کی بحفاظت رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے قطر اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعلقات انتہائی مضبوط ہیں اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان اپنے دوست ممالک کے ساتھ دفاعی، سفارتی اور اقتصادی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، بحری سلامتی اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گا۔
