واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے ایران کے خلاف جاری حالیہ جنگ میں عارضی جنگ بندی کا فیصلہ دیگر دوست ممالک، بالخصوص پاکستان کی شدید سفارتی اپیل اور درخواست پر کیا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی مستقل نہیں ہے اور ضرورت پڑنے پر مستقبل میں ایران پر دوبارہ فوجی حملے کیے جا سکتے ہیں۔
چین کے دو روزہ اہم دورے سے واپسی پر واشنگٹن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی اور اتحادی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیت کو تقریباً تباہ کیا جا چکا ہے اور اس وقت آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "میں ذاتی طور پر ایران کے ساتھ اس مرحلے پر جنگ بندی کا حامی نہیں تھا، لیکن پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر علاقائی رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی پسِ پردہ سفارتی کوششوں اور بار بار کی اپیلوں کے بعد ہم نے اس کا احترام کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا۔”امریکی صدر نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایک ماہ کے اس سیز فائر کے دوران ایران شاید اپنی پوزیشن کو دوبارہ مضبوط کرنے یا اپنے دفاع کو منظم کرنے کی کوشش کرے گا، یہی وجہ ہے کہ امریکی افواج الرٹ پر ہیں اور اگر سفارتی مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ کو دوبارہ ’کلیئر اپ ورک‘ (صفائی کے کام) کے لیے فیصلہ کن فوجی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔دوسری جانب، تہران کی طرف سے امریکی صدر کے اس بیان پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ اور عسکری حکام نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کو سراسر ‘نفسیاتی حربہ’ اور گیدڑ بھبکی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک کی دفاعی اور عسکری طاقت اب بھی مکمل طور پر برقرار ہے اور ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ تہران نے واضح کیا کہ اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ حملہ کیا گیا، تو ایران کی مسلح افواج اس کا ایسا فیصلہ کن اور عبرتناک جواب دیں گی جو دشمن نے سوچا بھی نہ ہوگا۔امریکی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ نے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے پسِ پردہ انتہائی سرگرم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی بھی کی تھی، جس کے بعد اس نازک جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی۔ تاہم، جوہری پروگرام اور اقتصادی پابندیوں جیسے بنیادی مطالبات پر اب بھی دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ سیز فائر مسلسل خطرات کی زد میں ہے
